بی این پی کا مرکز میں تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑنے کے حوالےسے چہ مگوئیاں دم توڑ گئیں

0

رپورٹ۔۔۔۔۔ محمد ندیم خان

پاکستان کی سیاست میں اتار چھڑاؤ آتا رہتا ہے اور مفاہمت ،رابطے ،حمایت

اور ساتھ چھوڑنے کاسلسلہ جاری رہتا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی نے چھ نکات کے بدلے میں پاکستان تحریک انصا ف کی حکومت بننے میں حمایت کی تھی

چند ماہ پہلے حالات ایسے ہوئے کہ لگ رہا تھا کہ بی این پی نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کافیصلہ کرلیا اوربعض افواہیں بھی گردش کررہی تھیں اور دوسری جانب بلوچستان سے پشتونخوامیپ کے سنیٹر اعظم موسیٰ خیل کے وفات کے باعث خالی ہوئی تھی کہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہوا

تو بی این پی نے غلام نبی مری کو سینٹ کاٹکٹ دیا اور تحریک انصاف سے ڈیمانڈ کیا کہ وہ اس کے امیدوار کو ووٹ دے تاہم اس دوران ووٹ بلوچستا ن عوامی پارٹی کو ووٹ ملا جس کے بعد افواہیں گردش کرنے لگیں کہ بی این پی اب تحریک انصاف کی حمایت چھوڑنے فیصلہ کررہی ہے

خان دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بلوچستان نیشنل پارٹی، مینگل ( بی این پی) کے درمیان چھ نکات پر د ستخط ہوئے جس کی بنیاد پر بی این پی نے عمران خان کی حکومت کی حمایت تھی۔

چھ نکات میں سرفہرست لاپتہ افراد، بلوچستان سے مہاجرین کی باعزت واپسی، وفاق کی نوکریوں میں بلوچستان کے کوٹے پر مکمل عمل درآمد سر فہرست تھا۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

دوسری طرف چند دن پہلے بی این پی کے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

جو وفاقی حکومت کو چھ نکات پر عمل در آمد کروانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

تاہم کمیٹی کے ٹائم فریم کے حوالے سے بلوچستان 24 سے بات کرتے ہوئے بی این پی کے سینئر رہنماء غلام محمد نبی مری نے کہا کہ
“کمیٹی ایک سال تک وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات دیکھے گی کہ چھ نکات پر کس حد تک عمل در آمد ممکن ہوا “

انکا مزید کہنا تھا کہ ” ہماری جماعت اقتدار اور وزارتوں کی سیاست کے بجائے بلوچستان کہ مسائل حل کرنے کیلئے سیاست کر رہی ہے جس کا اندازہ چھ نکات پر عمل در آمد کیلئے کی جانے والی کوششوں سے لگایا جا سکتا ہے،

اس وقت ہماری نظر میں اہم ترین مسئلہ مہاجرین کا انخلاء، لاپتہ افراد ، اور اسکے ساتھ ساتھ وفاقی نوکریوں کی فراہمی سر فہرست ہے۔
اب تک تین سو افراد بازیاب ہو چکے ہیں لیکن دوسری جانب مزید افراد لاپتہ ہو گئے ہیں اگر حکومت بے بس ہے تو بھی بتا دے تاکہ امید ہی نہ رکھی جائے۔

انکا مذید کہنا تھا کہ سی پیک کے معاملے میں وفاق بلوچستان کو نظر انداز کر رہا ہے حکومت زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر ترجییحی بنیادوں پر مسائل کا حل تلاش کرے

چار ماہ بعد کمیٹی کا دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا اگر ہمارے مطالبات پر عمل در آمد نہیں ہوا تو حکومت کی حمایت پر غور ہوگا کہ حمایت جاری رکھنی ہے کہ نہیں

بلوچستان جو بھی مہاجر ہے او رجس ملک سے تعلق رکھتا ہے اس کیباعزت طریقے سے واپسی چاہتے ہیں۔بلوچستان کی آبادی کم ہے اور سی پیک کے تحت آبادی کے پیمانے پر انخلاء کے باعث ہمیں خطرہ کہ بلوچ کہیں اقلیت میں نہ بدل جائیں ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.