خضدار سول ہسپتال کے ایمبولینس کہا کھڑے ہیں

خضدار بلوچستان کے وسط میں واقع وہ علاقہ ہے جہاں سے کوئٹہ اور کراچی تک مریضوں کی رسائی کم وقت میں ممکن ہے

0

کوئٹہ بلوچستان 24 تازہ ترین 21 جنوری۔2020

رپورٹ: مدثر محمود

بلوچستان کے سب سے بڑے ضلع خضدار میں حاد ثا ت اور دیگر آفات ساے نمٹنے کیلئے درجنوں ایمبولنسسز ہسپتالوں کی بجائے ڈی جی آفس میں کھڑی سڑ رہی ہیں جن میں جدید آلات سے لیس ایمولنسسز بھی شامل ہیں

خضدار بلوچستان کے وسط میں واقع وہ علاقہ ہے جہاں سے کوئٹہ اور کراچی تک مریضوں کی رسائی کم وقت میں ممکن ہےسی پیک کے روٹ پر واقع بلوچستان کے اس اہم علاقے میں قوی شاہراہ پر جدید ٹراما سینٹر بنانے کی منظوری بھی دی چاچکی ہے

لیکن حکام کی ٖ غفلت کے باعث ایمبولس جسی بنیادی ضرورت کی گاڑیوں کا کوئی پرسان حال نہیں وزیر اعلی بلوچستان میر جام کمال خان نے سابق وزیر صحت نصیب اللہ مری سے وزارت کا قلمدان واپس لینے کے بعد صحت کا محکمہ اپنے پاس لے رکھا ہے

جس کا مقصد بروقت فیصلہ سازی کے عمل کو یقینی بنانا ہے لیکن سرکای فندز کے ضیاع کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں جو صوبے کے غریب لوگوں کوکڑے امتحان میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے واضع رہے کہ بلوچستان میں دوران زچگی ماوں کی شرح اموات ملک میں سب سے زیادہ ہے جس کی بڑی وجہ بروقت مراکز صحت اور ہپسہتالوں تک رسانی نہ ہونا ہے

یاد رہے بلوچستان میں 89لاکھ سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فقدان ہے، لوگ دیہی علاقوں سے زچگی کیلئے شہر آتے ہیں لیکن شہر تک آنے کیلئے سرکاری ایمبولینس ناپید ہے اسی وجہ سے دوران زچگی اموات کی شرح زیادہ ہے۔

سابقہ دور حکومت اور موجودہ حکومت نے بھی اپنی ترجیحات میں صحت اور تعلیم کوسرفہرست رکھا ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار اس کی نفی کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: