یہ آنسو، یہ شکوے۔۔۔۔۔۔۔کون کس سے مخاطب ہے۔

اْستاد بشیر بلوچ اور یہ بے حس معاشرہ۔۔۔

“، باقی بلوچ “،

چہرے، تاثرات،باڈی لینگوئج، خاموشی، حساسیت، تصورات کی دنیا، اْٹھنا بیٹھنا، دوست، ساتھی، رشتے، رہہن سہن، کپڑوں سے بھی انسان کی معاشی حالات کا پتہ چلتا ہے۔

کیونکہ خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔
لازمی تو نہیں کہ ہر ایک بات کو زبان پہ لانا پڑے۔

سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ کون کس حال میں جی رہا ہے۔
لیکن کیا کرے بہرے، گونگھے اور غلامانہ سماج میں صاحب حیثیت لوگ، صاحب اختیار لوگ، ادبی ادارے، ادب اور سیاست کے کرتا دھرتا سب کچھ چپ سادھ لیتے ہیں۔ منہ پھیر لیتے ہیں تاکہ انکی اصلیت، چوری،کرپشن برائے نام دانشوری پر کوئی انگلی نہ اْٹھائے۔۔۔

۔۔۔۔۔کیا یہ ڈوب کر مرجانے کا مقام نہیں ہے اْن مراعات یافتہ طبقہ اور ادبی دْم چھلوں کیلئے جو بشیر بلوچ جیسے لیجنڈز کی وجہ سے ان کے دکانداری اور پروٹوکول قائم ہے۔۔

بشیر بلوچ نے دل شکستہ، دل گرفتہ حالت میں گانا گا کر کہا۔۔

آدمی کے مارے ہیں آدمی سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔

اگر اس گانے کے بیک گراونڈ اور آج کے تنا ظر میں دیکھا جائے تو بشیر بلوچ کی حالت زار کھل کر بتا رہی ہے۔ اور لبوں پر شکوہ اس چیز کی غمازی کرتا ہے۔ کہ وہ اس معاشرے سے بہت زیادہ مایوس ہو چکا ہے۔
اْن کے الفاظ بے قدری کا رونا رو رہے ہیں۔

بشیر بلوچ کو اس حالت تک لے آنے میں ہمارے لوگ شامل ہیں۔
ہمارا سماج اور ہم خود ہی اسکے ذمہ دار ہیں۔

اسکو اس حد تک لے آنے میں اْن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ جو کہ سامنے انکی تعریف اور پیچھے ان کا مزا ق اْڑاتے تھے۔۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہی ہے۔ کہ ہمارے فنکار، ادباء ، شعراء کے ارد گرد ایسے چاپلوس لوگ کے بیٹھے ہیں۔جو ہر وقت درویش، فقیر، اور حساسیت کے اتنے گن گارہے ہوتے ہیں کہ ہمارے بیچارے سادہ لوح ادیب، شاعر،فنکار اور زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔ اور پھر انکے حالات دن بدن ابتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔

کوئی اْن سے پوچھنے والا نہیں ہوتا ہے۔ اور فائدہ یہی دوسرے تیسرے لوگ اْٹھاتے ہیں۔

قومی اور بین الاقوامی سطح پر 132 سے زیادہ ایوارڈ وصول کرنے والا فنکار آج صاحب اختیار لوگوں سے صرف دو وقت کی روٹی کا التجا کررہا ہے۔
لیکن کوئی سننے والا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

اس سے قطع نظر افسوس اْن لوگوں کی سوچ اور ضمیر پر جو کچھ تھوڑا سا پیسہ ان کے ہاتھ میں تمھا کر، احسان جتا کر فوٹو کینچوا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر رہے ہیں۔۔
اس سے اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے فنکاروں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کررہے ہیں۔

براہوی زبان کو اصل شناخت اور پہچان دینے والے یہی لوگ ہیں۔
جو ریڈیو اور ٹی وی پر دن رات ایک کرکے اپنے فیملی،دوست،عزیزواقارب سے زیادہ اپنے زبان کی خدمت میں مصروف عمل رہے۔

براہوی فوک گیت آج بھی انہی کی بدولت زندہ ہیں۔
لیکن بد قسمتی سے اس وقت بھی ہمارے اداروں پر ایسے لوگ مسلط تھے کہ جن کی سرے سے ترجیحات میں براہوی زبان شامل ہی نہیں رہی۔
اور جس طرح سے ان لوگوں نے ہمارے فنکاروں کی استحصال کیا۔اور ان کی وجہ سے ہماری زبان کو شدید نقصان پہنچا۔
اور اگر وہ لوگ نہ ہوتے تو ہماری زبان اور زیادہ ترقی کرتی اور نیا ٹیلنٹ سامنے آتا۔

اکثر ہم سنتے آئے ہیں۔ کہ ہم مردہ ہرست قوم ہیں۔
میں سمجھتا ہوں یہ ہمارے سماج کیلئے ایک چھوٹا سا لفظ ہے۔ ہم تو اس سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔۔۔۔۔

یہ ہمارے اداروں اور سماج کی نا کامی ہے۔جس کی وجہ سے ہمارے پاس رونے اور افسوس کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا ہے۔

اگر ہم باشعور ہوتے۔ تو شعوری فیصلے کرتے اور ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

اس سے پہلے ہمارے آنکھوں کے سامنے بہت سے ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔

جب کو ئی ادیب یا شاعر کی موت واقع ہوتی یے تو مقامی اخبارات میں دو کالمی خبر بھی نہیں چپھتی ہے۔ اور نہ کسی کو اس واقعہ کی خبر ہوتی ہے۔

اس سے قطع نظر کے کرپٹ سیاستدان جو کہ ہمارے لوگوں کا خون چوس ریے ہوتے ہیں۔
انکے ہر خبر میڈیا کی زینت بنتی ہے۔

بشیر بلوچ اور انکے بچوں کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔جھوٹی تسلیوں اور الفاظ کی ہیر پیھر سے مسئلے حل نہیں ہونگے۔

المیہ یہ ہے اس وقت ہمارے معاشرے میں جو تخلیق کار یے وہی اذیت میں مبتلا ہے۔
جو حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
حقیقی تخلیق کار سماج کیلئے لکھتا ہے اور سماج ہی انکی نظر میں نیو کلیئس ہے۔

اگرسماج میں بے راہ روی اور لکشمی کی بھر مار ہوگی۔

تو سوچو۔۔۔۔بے چارہ تخلیق کار پر کیا گزرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہنگے کپڑے سستے لوگ
باڑ میں جائیں ایسے لوگ

اپنا تبصرہ بھیجیں