جامعہ بلوچستان اسکینڈل،وی سی کی عہدے سے دستبرداری بھی معاملے کو ٹھنڈا نہ کرسکی

ویب ڈیسک

جامعہ بلوچستان میں طالبات کو ہراساں کرنے کیخلاف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

طالبات کی خفیہ ویڈیوز بنا کر انھیں ہراساں کرنے کے خلاف اسٹوڈنٹس ایجوکیشن الائنس کے زیراہتمام یونیورسٹی کے سامنے دھرنا دیا گیا

جامعہ بلوچستان کے سامنے دھرنے کے باعث سریاب روڈ پرٹریفک کی روانی معطل ہوگئی

دھرنے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو نوکری سے برخاست کرکے ، واقعہ میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے، یونیورسٹی سے اضافی فورسز کا انخلاء کرکے طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے۔

دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نواب بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے جامعہ بلوچستان کے واقعہ میں ملوث تمام افراد بشمول وائس چانسلر کیخلاف کارروائی کی جائے

اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبے کے زیر انتظام ہے اس لیے وزیراعلیٰ بلوچستان ہائر ایجوکیشن کے انتظامات خود چلائیں

بلوچستان یونیورسٹی کو اس کے اپنے سکیورٹی اہلکاروں کے انتظام میں دیا جائے

طلباء تنظیموں پر پابندی کا خاتمہ کرکے ہراسمنٹ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرکے بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں میں تحقیقات کروائی جائیں

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں