قومی اثاثے ،جونیپر کی حفاظت کیلئے محکمہ جنگلات اہم اقدامات کررہی ہے ،طارق زہری

رپورٹ.سہیل بلوچ

بلوچستان جہاں دیگر حوالوں سے مشہور ہے وہیں پر یہاں ایسے اثاثے بھی

موجو دہیں جن کی حفاظت ہر فرد کی ذمہ داری ہے جونیپر بھی قومی اثاثہ ہے مگر اس کو بھی خطرات لاحق ہیں

جونیپر کے درخت جو زیارت اور ضلع قلات کے ہربوئی میں پائے جاتے ہیں اور دنیا کے قدیم ترین درخت ہیں

زیارت اور ہربوئی کے بلوچستان کے سرد ترین علاقے ہیں اور وہاں پر سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے نیچے گرجاتا ہے اور ان علاقوں میں گیس کی سہولت موجود نہیں ہے

جونیپر کو کن خطرات کا سامنا ہے اور حکومت بلوچستان اس حوالے سے کیا اقدامات کررہی ہے اس حوالے سے بلوچستان 24نے ڈائریکٹر جنرل محکمہ جنگلات سے با ت چیت کی

ڈی جی فارسٹ طارق زہری نے بلوچستان 24کو بتایا کہ جونیپرایک اہم درخت ہے زیارت کے تین گاوٴں جو خرواری بابا کے ساتھ ہیں وہاں یہ درخت وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں گیس نہیں ہے
اسی طرح ضلع قلات کا علاقہ ہربوئی جہاں پر جونیپر کے درخت پائے جاتے ہیں ہمیں ثبوت کے ساتھ ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان علاقوں میں جونیپرکے درختوں کو ایندھن کیلئے کاٹا جارہا ہے

یہ چیز ہمیں نہیں بھولنی چاہیے کہ جونیپر کے درختوں کے آس پاس جو کمیونٹی رہتی ہے وہاں موسم سرما میں شدیدسردی پڑھتی ہے لوگ سردی سے بچاؤ کیلئے آگ جلانے کیلئے اس درخت کو کاٹتے ہیں ۔

اس ضمن میں پہلے بھی اور گزشتہ سال صحافیوں نے کچھ ایسے نقطے اٹھائے تھے جس پر ہم نے محکمے کو یہ ہدایت کی کہ اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کیاجائے

اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہم نے سردست یہ کیا ہے کہ ایک خاص قسم کے چولہے جو پاکستان کے علاقے سیالکوٹ میں بنتے ہیں جس میں لکڑی جلانے کی ضرورت نہیں پڑھتی ہے اس میں گھریلو ضائع شدہ یعنی کوڑاکرکٹ جلایا جاسکتا ہے
زیارت والوں کیلئے خوشخبری ہے کہ ایک غیرسرکاری تنظیم نے سترہ لاکھ کے یہ چولہے زیارت کیلئے بنوالئے ہیں اور یہ چولہے ان علاقوں کے مکینوں کو دئیے جائینگے تاکہ سردیوں میں خود کو محفوظ رکھنے کیلئے ان درخت کاٹنے کے بجائے اس چولہے کا استعمال کریں

ڈی جی فارسٹ کے مطابق اسی طرح قلات کے علاقے ہربوئی میں جہاں جونیپر کے درختوں کی کٹائی کی ہمیں شکایات موصول ہوئی ہیں

وہاں پر پی پی ایل کمپنی تیل و گیس کی تلاش کیلئے ڈرلنگ کرنے جارہی ہے آنے والے وقت میں کمپنی نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بھی اس قسم کی چولہے ایسے کمیونٹیز میں تقسیم کریگی جو جونیپر کے آس پاس رہتے ہیں تاکہ انہیں جونیپرکے درخت کاٹنے کی ضرورت نہ پڑے ۔

یہ بات بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ زیارت اور ہربوئی میں اس قیمتی درخت کی کٹائی بے دردی سے جاری ہے حالانکہ صوبے بلوچستان میں فارسٹ ترمیم1974ء کے تحت جونیپر کا درخت کاٹنے پھر پابندی عائد ہے لیکن زیارت اور ہربوئی میں اس ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے

محکمہ جنگلات کا گرین پاکستان پروگرام کے تحت بھی جونیپردرخت کی دوبارہ شجرکاری پر زور دیا جائے گا اور اس میں میڈیا اور کمیونٹی کا کردار بہت اہم ہے اور انشاء اللہ اس امانت کو اچھی حالت میں آنی والی نسل کے حوالے کریں گے ۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں