بچوں سے زیادتی کے واقعات ،بلوچستان کےتعلیمی نصاب میں مضمو ن شامل

0

رپورٹ۔۔۔ محمد ارباز شاہ

ہمارے معاشرے میں بچوں کے زیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافے نے شہریوں کو اس حوالے سے تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور خصوصاً بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے والدین پریشانی کا شکار ہیں

پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کے بعدبلوچستان میں بچوں کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں اس حوالے سے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن بلوچستان نےبلوچستان24کو بتایا کہ بچوں میں سیلف ڈیفنس پر ذہن سازی کے حوالے سے نصاب میں نئے مضامین شامل کر لئے ہیں جوکہ 2019 کے نصاب میں شامل ہیں۔

حالیہ مہینوں میں قصور کی ایک ننھی بچی 6 سالہ زینب کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے بعد والدین میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے جس کو ختم کرنے کے لئے بلوچستان محکمہ تعلیم نے نصاب میں سیلف ڈفنس کا ایک جامعہ مضمون شامل کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

بلوچستان 24 سے بات چیت کرتے ہوئے کوئٹہ کے شہری زبیر بلال کا کہنا تھا کہ”ذیادتی کے واقعات میں بیش بہا اضافہ ہوچکا ہے زینب کیس کے بعد بے سکونی سی چاہی ہوتی ہے ان حالات میں اگر بچوں کے سیلف ڈفنس کے حوالے سے نصاب میں ترامیم کئے گئے ہیںتو یہ ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات ختم کئے جاسکتے ہیں۔

کوئٹہ کے ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ بچوں کی مثبت ذہن سازی مہذب قوموں کی نشانی ہوا کرتا ہے اور اس حوالے سے بلوچستان حکومت اور خاص طور پر ڈائریکٹوریٹ آف کیریکولم کا اقدام خوش آئند ہے اور ہم ان کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور والدین سے درخواست کرتے ہیںکہ وہ اپنے گھر پر اپنے بچوں کی مثبت تر بیت پر توجہ دے۔اس طرح بچے سیلف ڈیفنس کے بارے میں جاننے لگیں گے۔

نصاب میں ترمیم کے حوالے سے ڈائریکٹوریٹ کیریکولم نعمت اللہ خان کے مطابق پاکستان میں زیادتی کےواقعات کے ریشو میں اضافہ ہوا ہے جس کی روک تھام کے لئے ہماری ڈیپارٹمنٹ نے بہت سی کاوشیں کیں ہیںاور 2019 کے نصاب میں بچوں کی سیلف ڈیفنس کے حوالے سے ایک جامعہ مضمون شامل کردیا ہے جو کہ بچوں کی ذہن سازی کی جائیگی۔اور زینب زیادتی جیسے واقعات دوبارہ رونماء نہیں ہونگے ۔بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں نصاب سے نئے مسائل سے آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لئے نئے اقدامات کئے جائیں گے۔

نعمت اللہ خان نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنےبچوں کو گھر میں بھی مثبت تربیت دیکر حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کریں تاکہ وہ کوئی اور زینب نہ بن سکیں

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.