بلوچستان میں برفباری: سفید چادر میں ڈھکے پہاڑ اور شاہراہوں کو کھلا رکھنے کا چیلنج

رپورٹ: بلوچستان 24

یہ بھی پڑھیں
1 of 9,034

بلوچستان کے بالائی علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی باقاعدہ برفباری کے بعد جہاں ایک جانب مناظر دلکش ہو گئے ہیں، وہیں صوبائی انتظامیہ کو اس وقت اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے کٹھن چیلنج کا سامنا ہے۔

کوئٹہ سمیت صوبے کے ایک درجن سے زائد اضلاع میں ہونے والی اس برفباری اور بارش نے درجہ حرارت کو نقطہ انجماد سے نیچے گرا دیا ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی سست روی کا شکار نظر آتے ہیں۔

چمن اور اس کے ملحقہ علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق توبہ اچکزئی میں ڈیڑھ فٹ جبکہ کوژک ٹاپ پر ایک فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔

اس صورتحال نے نہ صرف سردی کی شدت میں اضافہ کیا ہے بلکہ پاک افغان سرحدی تجارت اور آمد و رفت کے لیے اہم راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ توبہ اچکزئی اور گرد و نواح میں درجہ حرارت منفی چار ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے، جو کہ رواں سیزن کی اب تک کی کم ترین سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔

صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) متحرک دکھائی دیتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کان مہترزئی جیسے حساس علاقوں کا دورہ کر کے امدادی سرگرمیوں کا خود جائزہ لیا ہے۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار بھاری مشینری اور ضروری عملے کو برفباری شروع ہونے سے قبل ہی ان مقامات پر تعینات کر دیا گیا تھا جہاں شاہراہوں کے بند ہونے کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے۔

اس وقت کوژک ٹاپ اور کان مہترزئی میں سڑکوں سے برف ہٹانے کا عمل جاری ہے تاکہ کوئٹہ کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی ٹریفک کو رواں رکھا جا سکے۔

بلوچستان میں برفباری کا یہ سلسلہ محض ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ اس کا گہرا تعلق صوبے کی زراعت اور زیرِ زمین پانی کی سطح سے بھی ہے، جو کہ طویل عرصے سے خشک سالی کے خطرات سے دوچار ہے۔

تاہم، یہی برفباری اکثر مسافروں کے لیے زحمت بن جاتی ہے۔

ماضی میں ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں شدید برفباری کے دوران سینکڑوں گاڑیاں اور خاندان شاہراہوں پر کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار پی ڈی ایم اے نہ صرف سڑکیں صاف کرنے میں لگی ہے بلکہ شہریوں سے ‘غیر ضروری سفر سے گریز’ کرنے کی اپیل بھی کی جا رہی ہے۔

محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ بارش اور برفباری کا یہ سلسلہ ابھی تھمنے والا نہیں ہے۔

اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران زیارت، پشین، قلعہ سیف اللہ، مستونگ اور قلات سمیت کئی اضلاع میں مزید برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.