ایف اے ٹی ایف کے آج شروع ہونے والے پلانری پر نگاہیں مرکوز

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد :  حکام کا اندازہ ہے کہ پاکستان میرٹ پر گرے لسٹ سے نکلنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن آج سے شروع ہونے والے پلانری کے ساتھ پاکستان شاید فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں موجود رہے۔

اہم عہدیداروں اور غیر ملکی سفرا سے پس پردہ ہونے والی بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ جیوری منقسم ہے، حکام ایک مثبت نتیجے کے لیے کافی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم کچھ سفرا کی تجویز یہ تھی کہ بہترین صورتحال میں بھی پاکستان جون تک اضافی نگرانی کی فہرست میں رہے گا۔  حتمی فیصلے کا اعلان ایف اے ٹی ایف کے صدر 25 فروری کو اختتام پذیر ہونے والے 4 روزہ ورچوئل پلانری میں کریں گے۔ پلانری سے قبل ایف اے ٹی ایف نے تمام ممالک کی مجموعی کارکردگی اپڈیٹ کی۔

اس اپڈیٹ کی بنیاد پر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 2 سفارشات، انسداد منی لانڈرگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام میں بہتر عملدرآمد ظاہر کررہا ہے۔

اپڈیٹ کے مطابق 4 چیزوں معاملات میں پاکستان کی پیشرفت عدم تعمیل، 25 معاملات پر خصوصی عملدرآمد اور 9 سفارشات پر بڑی حد تک عملدرآمد ہوا ہے۔ تاہم پلانری میں پاکستان کا جائزہ 40 سفارشات پر نہیں بلکہ 27 نکاتی ایکشن پلان کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

سفارتکاروں نے کہا کہ اس مرتبہ انہیں اسلام آباد کی جانب سے ویسی جارحانہ سفارتی کوششیں نظر نہیں آئیں جیسی کے ماضی بالخصوص اکتوبر 2020 کے پلانری سے قبل کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پلانری پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا گرے لسٹ سے نکالنے سمیت تمام آپشنز پر بات چیت کرسکتا ہے۔

تاہم امکان ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ایف اے ٹی ایف کے 3 اراکین، چین، ترکی اور ملائیشیا ملک کی درجہ بندی کم کرنے کے لیے تمام تر دباؤ برداشت کرسکتے ہیں۔ یہ صرف دوستانہ باہمی تعلقات پر نہیں بلکہ کارکردگی پر بھی منحصر ہے، ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمارے نقطہ نظر سے ہم نے تمام ایکشن پوائنٹس مکمل کیے ہیں جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کو کیا کرنا ہوگا لیکن بعض اوقات کچھ بااثر ممالک کسی ایسے پوائنٹ پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں جسے کوئی جائز نہ سمجھتا ہو۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: