میر غلام دستگیر بادینی: ایک سیاستدان جس کا دل عوام کے لیےدھڑکتا ہے

0

انٹرویو: مرتضیٰ زیب زہری

حاجی میر غلام دستگیر بادینی بلوچستان کے ایک قابل احترام اور باصلاحیت سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے علاقے کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے بے پناہ

خدمات انجام دی ہیں۔

تعارف

حاجی میر غلام دستگیر بادینی بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز سیاستدان ہیں۔ انہیں ان کی ایمانداری، عزم اور عوام کی خدمت کے جذبے کے لیے جانا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے علاقے کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

ان کی زندگی اور خدمات کے بارے میں جاننے سے نہ صرف ان کے علاقے کے عوام کو ان کی خدمات کی قدر کا احساس ہوتا ہے بلکہ یہ بھی پتہ

چلتا ہے کہ ایک مخلص رہنما کیسی ہوتی ہے۔

تعلیم اور ابتدائی سیاسی کیریئر

“بلوچستان 24 ” کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں ممبر بلوچستان اسمبلی حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ انہوں نے اپنی بنیادی تعلیم کیڈٹ کالج مستونگ سے حاصل کی۔

اس کے بعد انہوں نے ایف ایس سی تعمیر نو کالج، بی اے کوئٹہ یونیورسٹی اور ایم اے بلوچستان یونیورسٹی سے مکمل کیا۔

ان کی تعلیمی پس منظر نے انہیں ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جس پر

انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کی عمارت تعمیر کی۔

ان کا سیاسی سفر سال 2001 میں شروع ہوا جب وہ یونین کونسل ناظم کے طور پر منتخب ہوئے اور 2005 تک خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد، وہ 2005 سے 2010 تک تحصیل ناظم نوشکی رہے۔

ان عہدوں پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل کرنے اور علاقے کی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے۔

ان کی اس ابتدائی کامیابی نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا اور انہیں ایک قابل اعتماد سیاستدان کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

صوبائی اسمبلی میں رکنیت

حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے 2013 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کے رکن کے طور پر انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔

ان کے اس کامیاب انتخاب نے ان کی مقبولیت اور عوامی خدمت کے جذبے کو ظاہر کیا۔

2018 کے عام انتخابات میں، وہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابیاں یہاں ختم نہیں ہوئیں؛ 2024 کے عام انتخابات میں، انہوں نے جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ٹکٹ پر تیسری بار صوبائی اسمبلی کے رکن کے طور پر انتخاب جیتا۔

 

سیاسی فلسفہ

حاجی میر غلام دستگیر بادینی کا ماننا ہے کہ سیاست کو عبادت کی طرح سمجھ کر کرنا چاہیے، اور اسے دل سے کرنا چاہیے۔

ان کے خیال میں، لوگ اور قبائل ان کے اپنے ہیں، اور ان کی خدمت کرنا ان کا فرض ہے۔ وہ عوام کی آواز کو اسمبلی تک پہنچانے اور ان کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ان کا یہ فلسفہ ان کی تمام تر سیاسی سرگرمیوں کا محور رہا ہے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔

علاقائی ترقی میں کردار

حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے نوشکی کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

2013 سے 2018 تک صوبائی اسمبلی کے رکن کے طور پر اپنے دور میں، انہوں نے کئی اہم منصوبوں پر کام کیا، جن میں شامل ہیں:

کیڈٹ کالج نوشکی کا افتتاح

کیڈٹ کالج نوشکی کا قیام ایک اہم منصوبہ تھا جس نے علاقے کے نوجوانوں کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کیے۔

اس کالج کے قیام سے نہ صرف مقامی طلباء کو اعلیٰ معیار کی تعلیم مل رہی ہے بلکہ انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بھی بنایا گیا ہے۔

اس ادارے کی بدولت بہت سے طلباء نے مختلف شعبوں میں نمایاں

کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔

سال 2017 میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کا کیمپس نوشکی میں قائم کیا گیا

خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کا کیمپس نوشکی میں قائم کیا۔

اس اقدام سے مقامی خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آئے اور انہیں معاشی اور سماجی طور پر خود مختار بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

ا یونیورسٹی کے قیام نے علاقے کی خواتین کو تعلیم کی روشنی فراہم کی اور انہیں معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔

سال 2017 میں ان کی کوششوں سے نوشکی میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال فراہم کیا گیا۔

صحت کی سہولیات کی فراہمی میں بھی حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے اہم کردار ادا کیا۔

نوشکی کو 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال فراہم کیا گیا جس نے مقامی لوگوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کیں اور انہیں دور دراز کے ہسپتالوں تک جانے کی ضرورت نہیں رہی۔

اس ہسپتال کی بدولت مقامی لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات ملیں اور صحت کے مسائل میں کمی آئی۔

 

زاروچہ میں بی ایچ یو ہسپتال کا قیام سال 2016 میں

زاروچہ میں بی ایچ یو ہسپتال کا قیام بھی ان کے اہم اقدامات میں سے ایک تھا۔

اس ہسپتال کے قیام سے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات پہنچائی گئیں اور مقامی لوگوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کی گئیں۔

بی ایچ یو ہسپتال کے قیام نے نہ صرف مقامی لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی بلکہ صحت کے شعور میں بھی اضافہ کیا۔

تعلیم، صاف پانی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی

نوشکی میں تعلیم، صاف پانی اور صحت کی سہولیات کو دیہاتوں تک پہنچایا گیا۔ ان کے اقدامات نے علاقے کی مجموعی فلاح و بہبود میں نمایاں کردار ادا کیا۔

صاف پانی کی فراہمی سے صحت کے مسائل میں کمی آئی اور تعلیمی سہولیات نے مقامی طلباء کو بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کیے۔

ان کی کوششوں کی بدولت نوشکی کے دیہی علاقوں میں زندگی کا معیار بہتر ہوا۔

زمیندار ایکشن کمیٹی کا مسئلہ حل

زمیندار ایکشن کمیٹی کے مسئلے کو حل کرنا بھی ان کے کامیاب اقدامات میں شامل ہے۔ اس مسئلے کے حل سے مقامی زمینداروں کو ان کے حقوق ملے اور ان کی زندگی میں بہتری آئی۔

زمیندار ایکشن کمیٹی کے مسئلے کو حل کرنے سے مقامی زمینداروں کے حقوق کی بحالی ہوئی اور ان کی معیشت میں استحکام آیا۔

نوشکی کی مجموعی ترقی

حاجی میر غلام دستگیر بادینی کی خدمات نے نوشکی کو ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ضلع بنایا ہے۔

انہوں نے علاقے کے مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے اہم اقدامات کیے جن میں تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی، اور انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہیں۔

ان کے اقدامات کی بدولت نوشکی کے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں اور ان کی زندگی کا معیار بہتر ہوا۔

تعلیم کے شعبے میں ترقی

تعلیم کے شعبے میں حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے نہ صرف کیڈٹ کالج اور ویمن یونیورسٹی قائم کی بلکہ دیگر تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے بھی کام کیا۔

ان کے اقدامات کی بدولت نوشکی میں تعلیمی معیار بہتر ہوا اور مقامی طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع ملے۔

صحت کے شعبے میں بہتری

صحت کے شعبے میں بھی حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے نوشکی میں ہسپتال اور بی ایچ یو ہسپتال قائم کیے جن سے مقامی لوگوں کو بہتر صحت کی سہولیات ملیں۔

ان کے اقدامات کی بدولت صحت کے مسائل میں کمی آئی اور لوگوں کی صحت بہتر ہوئی۔

صاف پانی کی فراہمی

حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے نوشکی میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے بھی اہم اقدامات کیے۔

ان کے اقدامات کی بدولت علاقے کے لوگوں کو صاف پانی میسر آیا جس سے صحت کے مسائل میں کمی آئی اور لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر ہوا۔

انفراسٹرکچر کی بہتری

حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے نوشکی میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھی کام کیا۔

انہوں نے سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پلوں کی تعمیر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے۔

ان کے اقدامات کی بدولت علاقے کا انفراسٹرکچر بہتر ہوا اور لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔

ان کی ایمانداری، عزم اور عوام کی خدمت کے جذبے نے انہیں عوام میں ایک محبوب اور قابل اعتماد رہنما بنا دیا ہے۔

وہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں اور ان کی قیادت میں علاقے کے روشن مستقبل کا وعدہ ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.