بلوچستان: سمندری آلودگی سے آبی حیات کو خطرات

0

رپورٹ: محمد آصف ابابکی

بلو چستان کی ساحلی پٹی ضلع حب سے شروع ہو کر گوادر بندر گاہ تک پھیلی ہوئی ہے اس کی کل لمبائی سات سو ستر کلو میٹر ہے بلوچستان کی ساحلی پٹی پر بہت سی نایاب سمندری انواع پائی جاتی ہیں.

جن میں کچھوے، ڈولفن، وہیل اور دیگر کئی چھوٹی نایاب نسل کی مچھلیاں شامل ہیں پاکستان کے ساحلی علا قے بھی آبی آلودگی کی زد میں ہیں دوسری جانب غیر قانونی ٹرالنگ ، پلاسٹک کے جال ، بڑے بڑے ہاس پاور کے انجن استعال ہونے سے نہ صرف سمندری آلودگی بلکہ شور سے ایکو سسٹم بھی متاثر ہورہا ہے اس صورتحال سے گوادر میں چھوٹے مائی گیر پریشان دیکھا ئی دیتے ہے.

پسنی سے تعلق رکھنے والے مائی گیر عزیز اسماعیل جو کہ مائی گیروں کے حقوق کے لئے توانا آواز ہیں.

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

انہوں نے بتایا کہ ساحلی علاقوں میں لو گوں کےزریعہ معاش کا انحصار مائی گیری پر ہے غیر قانونی ٹرالنگ سے ان کو کئی کلومیٹر دور مچھلیوں کے شکار کے لئے جانا ہوتا ہے غیر قانونی ٹرالر جب فشنگ کرتی ہے ان میں ایسے بڑے بڑے جال ہے جو کہ چھوٹی مچلھیوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچے اور انڈوں کو ساتھ لیکر جا تے ہیں.

جس کی وجہ سے ان علاقوں کی سمندری حدود میں نہ صرف مچھلیوں کی افزائش نسل روک رہی ہے بلکہ سمندر میں محفوظ پناہ جہاں وہ انڈے دیتی تھی وہ ختم ہو رہی ہے.

see

عزیز اسماعیل کے مطابق پلاسٹک ، جال اور غیر قانونی ماہی گیری سے سمندری آبی حیات شدید خطرے سے دوچار ہے جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہوجاتا ہے چھوٹی مچھلیوں کی اموات کا سبب بن جاتا ہے جب چھوٹے ماہی گیر سمندر میں اترتے ہیں تو مردہ مچھیاں آجاتی ہیں جو کسی کام کی نہیں.

اس حوالے سے محکمہ فشریر کو اپنا کردار ادا کرنا چاہے انہوں نے کہا کہ وہ ایک مچھیرے کا بیٹا ہے ماہی گیروں کے حقوق پر ہمیشہ آواز اٹھاتا رہے گا اور خاموش نہیں بیٹھے گا.

گوادر میں انوائر مینٹل پر کام کرنے والی تنظیم( جیوز گوادر) کے آرگنائز و سماجی کارکن کے بی فراق کے مطابق کے بی فراق کے مطابق بلو چستان کی ساحلی پٹی خصوصا گوادر اور ملحقہ علاقوں میں ٹرالنگ سے سمندری ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے.


ٹرالنگ کرنے والوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کس ماہ میں اور کب اور کس علاقے میں ماہی گیری کرنی ہے.

وہ یہ نہیں دیکھتے مچھلی چھوٹی ہو یا بڑی یا مچھلیوں کے انڈوں کو نقصان پہنچتا ہے مچھلیوں کو بڑے بڑے جال کے زریعے پکڑتے ہیں جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے.

انہوں نے کہا کہ جن جگہوں پر مچھلیاں انڈے دیتی ہے یا ان کی افزائی ہوتی ہے ٹرالنگ سے ان کی آماچ گاہیں تباہ ہو جاتی ہیں

بلو چستان میں سمندری ماحول خراب ہونے سے دوسری بڑی وجہ یہاں پر تیل کا کاروبار ہے ،روزانہ بڑی تعداد میں لوگ ڈیزل لیکر جاتے ہیں سمندر حدود میں ڈیزل کے کاروباراور پانی میں تیل مقدار زیادہ ہونے سے مچھلیوں کو نہ صرف سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے بلکہ ان کا زندہ رہنا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماہی گیروں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔


ماہی گیروں کی جلد کی بیماری ، آنکھوں کی بیماری کے خدشات بڑھ جاتے ہیں پلاسٹک کے جال ، ڈیزل ، اور بڑے بڑے انجمن استعمال کرنے کی وجہ سے سمندری ماحول کو بہت نقصان پہنچا ہے بڑے بڑے انجمن کی شور سے آبی حیات کی اور ایکو سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہو تے ہیں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بہت سی سمندری حیات ہمارے ساحلوں سے کوچ کر چکی ہیں کیونکہ اب موسم ِگرما طویل اور شدید ہوتا جارہا ہے جبکہ ماہی گیری کے لئے بہترین موسم سرما ہوتا ہے۔

گوادر کے اہم معاملات کو لیکر چلنے والے مولانا ہدایت رحمان جو کہ حق دو تحریک کے قائد ہے انہیں شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے گواد میں ماہی گیری، ٹرالنگ ، سمیت دیگر حقوق کے آواز بلند کی تو ان کے احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں تا ریخ میں پہلی مرتبہ خواتین اور مرد سڑکوں پر نکل آئے۔

اس بنیاد پر مولانا ہدایت الرحمان حالیہ انتخابات میں رکن اسمبلی گوادر بن گئے ، ان کی کاوشوں کی بدولت بلوچستان اسمبلی نے گزشتہ اجلاس میں گوادر کے سمندر میں غیرقانی ٹرالنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر کرلی۔

مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ مکران کے ساحل سمندر کی نایاب مچھلیوں کی دنیا بھر میں ڈیمانڈ ہے۔

دیگر صوبوں سے ٹرالرزسمندر کو تاراج اور سمندی حیات کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ ٹرالرز کی غیر قانونی فشنگ کی وجہ سے مچھلی کی درجنوں نسلیں نایاب ہوچکی ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ بلوچستان کے ساحل سے سالانہ اربوں روپے کی مچھلیاں غیرقانونی طور پرشکار کی جاتی ہیں۔


غیر قانونی ٹرالنگ نے بلوچستان کی معیشت کو تباہ اور مقامی ماہی گیروں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیا ہے۔

حکومت ماہی گیروں کے معاش کو بچانے کیلیے بلوچستان کے ساحل کے تحفظ کیلیے ممکن اقدامات کریں

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.