ایم ایس شیخ زید کی صحافی سے تلخ کلامی

0

کوئٹہ: ویب رپورٹ

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زیدہسپتال ڈاکٹرذوالفقاربلوچ کی صحافی کیساتھ تلخ کلامی، ہاتھاپائی کرنے پراترآئے، ایم آرآئی مشین غیرفعال ہونے کی خبررپورٹ کرنے کیلئے جانے والے صحافی سے کیمرہ چھیننے کی بھی کوشش کی گئی جوباعث تشویش ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے کیمرہ میںحسنین بلوچ پیرکوشیخ زیدہسپتال گئے جہاںپرانہوں نے غیرفعال ایم آرآئی مشین کی فوٹیج بنائیںاس معاملے میں ہسپتال انتظامیہ کاموقف جاننے کیلئے میڈیکل اسپرنٹنڈنٹ کے دفتر گئے۔

جہاں پر کافی انتظار کرنے کے بعد ایم ایس نے انہیں وقت نہیں دیا۔

حسنین نے بتایا کہ ایم آر آئی مشین کی خرابی کے حوالے سے گزشتہ ہفتے بھی وہ ایم ایس کاموقف جاننے کیلئے گئے مگرکسی نے انہوں کوئی بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

ایک ہفتے بعد دوبارہ ہسپتال گئے گزشتہ دن ہسپتال کے وارڈ میں فوٹیج بنائے مگر اس مرتبہ ہمارے ساتھ وہی رویہ رکھا گیا اور ایم ایس نے ہمارے ساتھ نہ صرف الجھنے کی کوشش کی بلکہ تلخ کلامی کرکے ہاتھا پائی کرنے پر اتر آئے۔

تاہم حسنین وہاں سے روانہ ہوگئے۔

ایم ایس کی تلخ کلامی کے دوران ہسپتال کا عملہ آیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے جہاں پر میڈیکل سپر نٹنڈ نٹ کے پی ایس اور اسٹاف نے بتایا کہ”صاحب کا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا ہے “ اس لئے اس طرح برتاﺅ کر رہے ہیں۔شیخ زید ہسپتال کوئٹہ مستونگ روڈ پر واقع بڑ اسرکاری ہسپتال ہے جہاں پر کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان نوشکی، خاران، پنجپائی، کانک، مستونگ ، قلات اور دیگر علاقوں سے لوگ مفت علاج معالجہ کی غرض سے آتے ہیں۔

صوبہ بھرمیں صحت کے شعبے کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے حکومت اور متعلقہ حکام کے تمام دعووں کے باوجود عملی اقدامات اٹھانے کی بجائے ہسپتال انتظامیہ صحافیوں کیساتھ الجھنے میں کوئی دیر نہیں کرتے۔

اس طرح صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے بجائے ہسپتالوں میں غیر فعال مشینری کو فعال بناکر ادویات کی بروقت فراہمی اورب عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ شہریوں کوپرائیویٹ ہسپتالوں سے چھٹکارہ مل سکے۔واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی شیخ زید ہسپتال میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے معاملے میں مبینہ کرپشن اور من پسند افراد کی تعیناتی کی خبر رپورٹ کرنے کیلئے جانے والے صحافی مرتضیٰ زہری کیساتھ بھی ایم ایس نے ہتھک آمیز رویہ اختیار کرکے انہیں ذود و کوب کانشانہ بنایا تھا جس کے بعد کوئٹہ پریس کلب اور۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے مل کر معاملہ کو ختم کروایا۔

ہسپتال کے ترجمان نے اس معاملے سے بے خبر ہو کر تردید کی ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.