وفاق سے بھیک نہیں حق مانگ رہے ہیں: سردار اختر مینگل

ویب رپورٹر

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سر براہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ نواب میر امان اللہ زہری اور انکے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،میری اور نواب امان اللہ کی سیاسی دوستی کو 20 سال ہوئے تھے،حکمرانوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے لوگوں کو ہمیشہ لڑایا، وفاق سے بھیک نہیں مانکتے حق مانگ رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں کوئٹہ کے ہاکی گراونڈ میں بی این پی کے زیر اہتمام ایک پر ہجوم جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کا جلسہ کسی کو لڑانے یا کسی ک کچھ بتانے کیلئے نہیں رکھا گیا اس جلسے میں مختلف علاقے،فرقوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں نواب امان اللہ کیخلاف کئی عرصوں سے سازشیں چل رہی تھی۔یہاں کے حاکموں نے ہمیشہ ہمیں آپس میں لڑانے کی کوشش کی۔نواب امان اللہ کا واقعہ سیاسی قتل ہے۔

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ نواب امان اللہ نے ہمیشہ بابو نوروز خان کا علم بلند کیا،زہری میں بی این پی کے جلسوں کے بعد نواب امان اللہ کو دھمکیاں دی جاتی تھی۔بی این پی کے شہداء نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ اصل ہے،نواب امان اللہ کا قتل قبائلی معاملہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو تقسیم کرنیوالے خود ٹوٹ گئے،بی این پی ایک سوچ،نظریہ، جدوجہد کا نام ہے،2002 سے ہمارے کارکنوں کو شہید، ہمیں قیادت سے محروم کرکے ہمارے ہاتھ کاٹے گئے،ہمیں سودا گیر کہنے والوں سے پوچھتا ہوں بتایا جائے کیا سودا کیا۔

سردار اختر مینگل نے وفاقی حکومت سے کئے گئے معاہدہ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کیساتھ جو معاہدہ کیا اس میں مکمل کامیاب نہیں ہوئے، ایک سال میں 400 لوگ اپنے گھروں کو پہنچے لیکن میں مطمئن نہیں ہیں،مرکز کے فیصلوں کے پیچھے نہیں جائینگے،،قومی مفادات کے سامنے رکھ کر فیصلے کرینگے۔

سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ مرکز سے کہتے ہیں کہ اگر آپ سے نہیں ہوتا تو بھی بتادیں، وفاق سے بھیک نہیں مانکتے حق مانگ رہے ہیں۔

انہوں نے بلوچستان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ وزراء کو انگلش تو دور اردو بھی نہیں آتی،وزیراعلی ہاوس کے باہر پوسٹوں کی بولی لگتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں