بلوچستان یونیورسٹی لاء کالج میں طلباء کو درپیش مسائل فوری حل کئے جائیں۔

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بلوچستان۲۴اسٹاف رپورٹر

پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین عالمگیر مندوخیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی لاء کالج میں طلباء کو درپیش مسائل فوری حل کئے جائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ قانون کی پانچ سالہ ڈگری حاصل کرنے کیلئے صوبے کے دور دراز علاقوں سے صوبائی دارلحکومت کا رخ کرنے والے طلباء تعلیمی اداروں میں ہاسٹلوں کے فقدان کی وجہ سے ٹھوکرے کھاتے پھرتے ہیں۔

بلوچستان یونیورسٹی لاء کالج کیلئے پرنسپل کی مشتہر کی گئی خالی اسامی پر تقرری فوری طور ممکن بنائی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان یونیورسٹی لاء کالج کوئٹہ کے موجودہ سربراہ کو میرٹ کے برخلاف ایکٹنگ چارج پر پچھلے چار سال سے ادارے پر مسلط کیا گیا ہے جو کہ ایچ ای سی کے مطلوبہ بنیادی تعلیمی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے۔ بیان میں کہا گیا کہ 8 جون 2016 کے المناک سانحے میں سابقہ پرنسپل لاء کالج بیرسٹر امان اللہ اچکزئی کی شہادت کے بعد سے ادارہ یتیم ہوچکا ہے۔

اس افسوسناک سانحے کے بعد عارضی طور پر ایک پرنسپل ایکٹنگ چارج پر تعینات کیا گیا جو کہ اب چار سال گزرنے کے باوجود منظور نظر ہونے کی وجہ سے اس کرسی سے چمٹ کر بیٹھا ہے جبکہ ادارے کو اپنی جاگیر سمجھ کر بادشاہت قائم کر رکھی ہے۔

ادارے کے اندر کلاس رومز میں کیمرے نسب کرکے طلباء کی سیکورٹی کی بجائے جاسوسی کی جا رہی ہے جو کہ طلباء کی ذہنی صلاحیتوں پر نہایت ہی منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔ طلباء کی جاسوسی کرکے معاشرے اور قوم کے مستقبل کا کونسا پیغام دیا جارہا ہے۔

انہی جاسوسی کیمروں کی وجہ سے آج بلوچستان یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے طلباء و طالبات بلیک میلنگ کا شکار ہیں جوکہ ادارے میں اخلاقی بحران کا سبب بنا ہوا ہے. بیان میں بلوچستان اور کوئٹہ بار کونسلز سے مطالبہ کیا گیا کہ لاء کالج کو اس بااثر اور بلیک میلر ٹولے سے فوری نجات دلایا جائے۔

جبکہ صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ مزید ایکٹنگ چارج پر تقرریاں قابل قبول نہیں لہذا پرنپسل لاء کالج کی تقرری فوری ممکن بنائی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن لاء کالج کے طلباء کے مطالبات اور احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے جبکہ پشتون ایس ایف لاء کالج یونٹ کو تاکید کی جاتی ہے کہ طلباء کے احتجاج میں اپنی بھرپور شرکت یقینی بنائیں اور مطالبات کے حصول کے حوالے سے اپنا ہر ممکن تعاون جاری رکھیں.

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: