نہ خود کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا

0

میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں شہرویو ں کی ایک وفد نے مئیر سے ملاقات کی ۔

وفد نے مئیر شپ کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا ۔ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کلیم اللہ خان کاکڑ نے کہا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے نہ خود کھاؤں گا اور نہ کھانے دونگا لیکن جہاں تک مجھ سے متعلقہ ماحول کا تعلق ہے

اس میں صرف 30سے35فیصد تک کامیابی حاصل کر سکا ہوں اور 65 سے 70 فیصد تک بدعنوانی جاری ہے کیونکہ مجھ سے متعلقہ ماحول کہتا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ ۔

ورنہ کوئٹہ شہر کے ترقی کے متعلق تمھارے خواب پورے نہیں کرنے دینگے جبکہ میرا کہنا ہے ہے جو تم لوگ چاہتے ہو وہ اللہ کے قانون ، ہمارے آئین ،انسانی اقدار اور میرے ضمیر کے خلاف ہے ۔

اس پر عمل کرنامیرے لئے ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 3 سال کے تجربات سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارا نظام اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ جو تھوڑا بہت سیدھے راہ پر کام کرنا چاہتا ہے اسے یا تو اپنے شعبے سے ہٹایا جاتا ہے یا بے بس کردیا جاتا ہے ۔

میرے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ پہلے مرحلے میں تو لوکل گورنمنٹ کے ناقص ایکٹ ۲۰۱۰ نے ہمیں بے اختیار کر کے چھوڑ دیا اور دوسری جانب روز اول سے میرے خلاف سازشیں زوروں پر ہیں ۔

میرے آتے ہی ایک گروپ نے میرے سیٹ کو چیلنج کیا۔ چھ مہینے کے بعد وہ اپنے مذموم مقاصد میں فیل ہوئے۔اس کے بعد ایک دوسرا بڑا سازشی ٹولہ نمودار ہوا جنہوں نے مجھ پر الزامات کی بوچھاڑ کی ۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,727

پہلے وائٹ پیپر شائع کرکے اخباری کانفرنسیں کیں۔ پھر نیب کے پاس گئے آخر یہی شکایت لے کر ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا ۔ لیکن چونکہ تمام الزامات بے بنیاد تھے اس لیے وہ ناکام ہوئے ۔

اس کے بعد بھی یہ ٹولہ آرام سے نہیں بیٹھا اور میرے خلاف عدم اعتماد کی مہم چلانا شروع کیا جس میں بے دریغ پیسوں کا استعمال کیا لیکن اُس میں بھی ناکام ہوئے۔ لیکن اب انہوں نے اپنے سرپرستوں کی شہ پر اسلام آبادمیں الیکشن کمیشن میں میرے سیٹ کو چیلنج کیا ۔

جبکہ یہ کیس صرف 45 دنوں تک الیکشن کمیشن میں شنوائی کے قابل ہیں اس کے بعد الیکشن کمیشن کے کورٹس اس پر فیصلہ نہیں دے سکتی لیکن حیرت کی بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس کے باوجود میرے خلاف فیصلہ دیا۔

جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوسرے ہی دن اس عجیب فیصلے کو رد کیا۔ اور میں اُمید کرتا ہوں کہ اس کیس کا فیصلہ آئندہ بھی حقائق کی بنیاد پر ہوگا۔اس سازشی ٹولے کو میرا مشورہ ہے کہ صبر کریں کچھ اور صبر کے روزے رکھیں ۔

وفد سے میئر کوئٹہ نے بات کرتے ہوئے کہاکہ جب تک اللہ تعالیٰ چاہیے گا میں بغیر کسی معاوضہ اور مراعات کے کے فی سبیل اللہ عوام کی خدمت جاری رکھوں گا ۔

انہوں نے کہا کہ مئیر شپ کی وجہ سے اگر چہ میں سخت مالی ،جسمانی اور مذہبی نقصانات کی زد میں ہوں لیکن عوام کی خاطر ایمانداری سے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر چہ شہر میں ڈھائی ارب روپے سے ذیادہ خرچ کئے اور مزید دس ارب کے فنڈز آرہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شہر میں تبدیلی کا پروگرام ابھی تک عملی نہیں ہوسکا کیونکہ مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر میرے سامنے روڑے اٹھکائے جارہے ہیں

لیکن اس کے باوجود بھی میں عوام اور شہر کی خدمت جاری رکھوں گا اور عوام سے استدعا ہے کہ وہ بھی میرے لیے دعا کرئیں کہ میں ان کی خد مت میں کامیاب ہو سکوں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.