پیسہ پھینک تماشا دیکھ

0

عبدالحلیم

گوادر میں بلوچستان کو حق دوتحریک کے احتجاجی دھرنے کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان اسٹیج سے اُترنے کے بعد وہاں پر موجود دھرنا کے شرکاء سے گھل مل گئے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دھرنا میں شرکت کرنے والی خواتین سے بھی ملاقات کی اور اُن کے سامنے کرسی لگا کر بیٹھ گئے۔

خواتین گوادر کے مسائل کے حوالے سے اُن کو اپنا دکھڑا سناتی ہیں۔ ایک خواتین یہ بھی کہہ رہی تھیں کے جن ماؤں کے بچے غائب ہیں۔ اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ بچوں کا غم ان بیچاری ماؤں کو کھائے جارہی ہے۔ ان ماؤں کے جگر گوشوں کو بازیاب کرکے ان کے کلیجے کو ٹھنڈک پہنچائیں۔

ایک خاتون وزیراعلیٰ بلوچستان کی تعریف اس طرح کررہی ہیں کہ آپ واحد وزیر اعلی ہیں جو ہم میں گھل مل رہے ہیں۔ ایک خواتین کہہ رہی ہے کہ ہمیں پیسے نہیں چاہیئے۔ آپ جیسا خادم پہلے ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے جو اِس طرح ہمارے درمیان بیٹھکر ہمیں سُن رہا ہو۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے سامنے بیھٹے ہوئے اِن خواتین کو بڑے غور سے سن بھی رہے ہیں۔ پھر اچانک وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے ایک اسٹاف افسر کو اشارہ کرتے ہیں۔ اشارہ ملتے ہی مذکورہ افسر اپنے واسکوٹ کے جیب سے پانچ پانچ ہزار کے فریش نوٹ نکال کر وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان بڑی دریادلی کے ساتھ خواتین میں پیسے تقسیم کرتے ہیں۔ اِس ہجوم میں ایک نوجوان پُکار اٹھتا ہے۔ “وہ بلوچستان یونیورسٹی سے لاپتہ طالب علم”۔ “وہ بلوچستان یونیورسٹی سے لاپتہ بلوچ طالب”۔

لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان اپنی دریادلی میں اتنے کھو ئے ہوتے ہیں کہ یہ پُکار شاید اُن کے کانوں میں سرائیت نہیں کر پاتی۔ یا ہجوم کے شور میں شاید اُن کے کانوں میں یہ پُکار نہیں پہنچ پاتی۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,727

اِس منظر کی ویڈیو کے وائرل ہونے کی دیری تھی کہ سوشل میڈ یا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ہزار منہ اور ہزار باتیں سامنے آرہی ہیں۔ کوئی کہتاہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے بزرگ خواتین کو داد دے رہے تھے۔ بلوچ کلچر میں داد دینے کا رواج ضخیم ہے۔

کوئی یہ الزام لگا رہا ہے کہ پیسے بانٹنے کا عمل دیدہ دانستہ طورپر کرایا گیا ہے اور اِس سے یہی پیغام دینا مقصود تھا کہ پیسے میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اور اِس کے سامنے کوئی بھی نظریہ ٹِک نہیں سکتا۔ وغیر ہ وغیرہ۔

اِس منظر میں حق دو تحریک کے روح رواں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ بھی وہاں کھڑے ہیں۔ اِس منظر کو دیکھکر ناقدین حق دو تحریک کے سربراہ کی موجودگی کو سخت تنقید کا بھی نشانہ بنایا جارہا ہے ۔لیکن بعد میں مولانا ہدایت الرحمن نے سوشل میڈ یا پر اِس کی وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دیا ہے کہ “وزیراعلیٰ بلوچستان کا پیسے تقسیم کرنے کا عمل اُن کی ذاتی فعل ہے۔ حق دو تحریک کے کہنے یا ترغیب پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے پیسے نہیں بانٹے ہیں”۔

حق دو تحر یک کے دھرنا میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کِس نیت سے پیسے تقسیم کئے ہیں، اِس کا وزیراعلیٰ بلوچستان بہتر طور پر جواب دے سکتے ہیں۔ تاہم اِس حوالے سے بلوچستان حکومت کے ترجمان نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے پیسے تقسیم کرنے کے عمل کو کسی بھی پسِ پردہ عزائم سے مبرا قرار دیتے ہوئے اس کو فقط ہمدردی کے جذبے سے تعبیر کیا ہے۔ حق دو تحریک اور حکومت بلوچستان کے ترجمان کی وضاحت کے باوجود اِس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔

لیکن اگر ہم بلوچستان کی سیاسی پارلیمانی تاریخ بالخصوص مکران کے حوالے سے اِس کا تجز یہ کریں تو دولت کی ریل پیل کی روایات گہری ملےگی۔ اِس حوالے سے یہ مثال پیش کی جاتی ہے کہ پارلیمانی سیاست میں مقام بنانے کے لئے پیسہ ہی واحد ہتھیار ہے۔ یہاں پر ووٹروں کو مائل کرنے کے لئے دولت کی چمک کے علاوہ کوئی بھی طریقہ کارگر نہیں ہوتا کی مثال کو پزیرائی دی جاتی ہے۔ پولنگ اسٹیشن پر ووٹروں کی ٹرانسپورٹیشن، وہاں کھانوں کے دیگوں کی بھرمار اور امیدوا ر کے گھر پر ووٹروں کی دستک کا توڑ پیسہ ہی سمجھا جاتاہے۔ یعنی پیسہ پانی کی طرح بہانا ہی پارلیمانی سیاست میں کامیابی کا بنیادی رہنماء اصول گردانا جاتاہے۔ نظریہ، اچھی شہرت، دیانت دار اور ایماندارانہ وصف رکھنے کے باوجود اگر آپ کے پاس پیسہ نہ ہو تو ووٹرز کی توجہ آب و سراب ٹہھر جائے گا۔ یعنی بڑی بڑی گاڑیوں اور پر طعیش زندگی گزارنے والے زعماء ہی پارلیمانی سیاست کے سورما قرار دیئے جاتے ہیں اور یہی لوگ اِس دَنگل کو پار کرنے کی باصلاحیت کھلاڑی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ پیسے سے ہی ہوتاہے۔

تھڑے پر پارلیمانی سیاست کی مالا چپھنے والا چاہے کتنا ہی نظریاتی، پاک دامن اور دیانت دار ہو اس کو یہ دَنگل سَر کرنے کے لئے جیبوں کو بھرنا ہوگا۔ نظریات، دیانتداری اور امین و صادق کے رہنماء اصولوں پر مبنی لٹریچر سے نہیں بلکہ کرارے کرارے نوٹوں سے جس کی خوشبو ہی ایسی ہے کہ یہ ہرایک کو کھینچ کر آپ کے پاس لاتی ہے۔ پیسے کی بے دریغ استعمال کی رواج پارلیمانی سیاست میں پوری طرح سرائیت کرچکی ہے۔ بڑے سے بڑا کامریڈ، سیاسی اور نظریاتی کارکن اور معاشرے کا متعبر بھی اس کا دلدادہ بن کررہ جاتاہے۔

عام ووٹرز کا تو قصور نہیں ہے۔ پانچ سال کے بعد ویسے بھی اُن کو کوئی نہیں پوچھتا۔ اس کی لاٹری تو پانچ سال کے بعد نکل آ تی ہے۔ وہ اِس سوچ کو جواز بناکر وقتی فائدے کی طرف اپنی توجہ مر کوز کرتا ہے۔ پانچ سال کے دوران اُس کا سمندر ٹرالرز مافیا کے حوالے ہو۔ اِس کے بیٹے کو ملازمت نہیں ملے اور اِس کا چاہے ہر طرح سے استحصال کیا جائے، وہ یہ غم اُس وقت بُھلا دیتاہے۔ لیکن کامریڈ کی معراج سَر کرنے اور نظریات کا داعی بننے والے اور معتبر حلقہ اگر اس بہتی گنگا میں اَشنان کریں تو عام ووٹرز کو لعن طعن کرنا زیادتی ہوگی۔

اِس گفتگو کا حاصل مقصد کسی کی دل آزاری نہیں کرنا ہے، چاہے وہ کامریڈ ہو یا عام ووٹرز یا متعبر۔ لیکن اصل مدعا یہ ہے کہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ ہماری پارلیمانی سیاست کا آزمودہ ہتھیار بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے حق دو تحریک کے دھرنا میں پیسے تقسیم کرنے کے عمل سے حق دو تحریک کے سربراہ اور سا تھیوں کا کوئی لینا دینا  نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کس نیت سے پیسے بانٹے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔ کیونکہ نیتوں کا حال اللہ بہتر جانتا ہے۔مگر پیسا پھینک تماشا دیکھ کی پالیسی یہاں کی پارلیمانی سیاست کا موثر ہتھیار بن گیا ہے اور اِس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اِس روش نے ہمارے ہاں سیاسی کارکنوں کی بجائے سیاسی مزدوری کے چلن کو بڑھاوا دیا ہے۔ پیسہ پھینک تماشا دیکھ کے فلم میں متعبر بھی سرنگُوں ہوتا ہے جس کا مظاہرہ بتد ریج جاری ہے۔ جب تک یہ روش قائم ہو گا تو عوامی نمائندگی مضبوط نہیں ہوگی۔ عوامی نمائندگی کی مضبوطی کے لئے پیسا پھینک تماشا دیکھ کے فلم کا پارلیمانی سیاست کے پردے پر بُری طرح فلاپ ہونا ضروری ہے۔ جب تک یہ فلم پارلیمانی باکس آفس پر کامیاب رہے گی تب تک عوامی نمائندگی سے وابستہ خواب سراب ثابت ہوتے رہینگے۔

حق دو تحریک کی طرح پیسہ پھینک تماشا دیکھ کے روش کے خلاف بھی موثر عوامی ذہن سازی کے عامل تحریک ناگزیر بن چکی ہے۔ بصورت دیگر پیسہ پھینک تماشا دیکھ والی فلم پارلیمانی سیاست کے پردے پر سپر ہٹ رہ کر تماش بینوں کو لَلچاتی رہے گی

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.