ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال بچوں کوکھیلوں کی سرگرمیوں سےدور کرنے لگا

رپورٹ۔۔۔۔۔ مہک شاہد

سائنس کی بدولت جہاں انسانی زندگی آسان سے آسان تر ہوتی جا رہی ہے۔ وہیں مشکلات میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بچے کھیلوں کے میدانوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو بچوں کے پسندیدہ مشاغل کرکٹ، فٹ بال، کبڈی، ہاکی، بیڈمنٹن، والی بال سمیت ایسے کھیلوں کی طرف رجحان زیادہ تھا

جو انسانی صحت کو فٹ رکھنے کے ساتھ ساتھ وقت کا بہترین مصرف تھا لیکن اب جدید سہولیات کے آجانے سے بچے اپنا زیادہ وقت انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور موبائل فون کو دینے لگ گئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بچوں کے دماغوں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔

ماہرین نفسیات بھی کہتے ہیں کہ جدت  بچوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں سے دور لے جارہاہے

ماہر نفسیات ڈاکٹر صائمہ بلوچستان24 کوبتایاا کہ ’’ کھیل جو انسان کو جسمانی طور پر، ذہنی طور پر اور نفسیاتی طور پر فٹ رکھتا ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال کی وجہ سے بچے کھیلوں کی سرگرمیوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو کہ بچوں کے لئے نقصان دہ ہے۔

ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بچوں کے اندر برداشت کی صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے اور بچے چڑچڑھے پن کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر صائمہ کا مزید کہنا تھا کہ ” اصل ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو وقت دیں اپنے بچوں کو بتائیں کہ ان کے لئے صحیح غلط کیا ہے،

اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہنا چاہیے، اگر والدین اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہ اور پھر وہ وہی کام کرنے لگ جاتے ہیں جو ان کا کرنے کو دل کرتا ہے۔

ذہنی دباؤ کی وجہ سے بچے اس لئے کھیلوں کے میدانوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور اپنے گھر کے کمرے تک ہی محدود ہو گئے ہیں اور اپنا سارا وقت موبائل، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو دینے لگ گئے ہیں‘‘

والدین کے اوپر بہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو ان کو پورا کرتے کرتے اپنی ساری زندگی گزار دیتے ہیں، ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی سے اچھی تربیت کریں اور ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی ہر خواہش کو پورا کریں۔

بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے لیکن بعض والدین یہ بات نہیں سمجھتے وہ بنا سوچے سمجھے اپنے بچوں کی خوشی کی خاطر ان کی خواہش کو پورا کرنے لگ جاتے ہیں، آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں بچے اپنے والدین سے موبائل فون اور کمپیوٹر وغیرہ کی فرمائش کرتے ہیں اور بچوں کے والدین ان کی خواہشات کو بنا سوچے سمجھے پورا کرنے لگ جاتے ہیں، جو کہ صحیح نہیں ہے۔

آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں موبائل، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا رجحان زیادہ ہے جس کی وجہ سے بچے کھیلوں کے میدانوں سے دور ہو رہے ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

بچوں کو فارغ وقت ضائع کرنے سے روکا جا سکتا ہے بچوں کے لئے ایک ٹائم ٹیبل سیٹ کیا جائے جس میں بچے موبائل اور کمپیوٹر کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں کو بھی وقت دے سکتے ہیں۔ ان سب میں بچوں کے والدین کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں