گل آغا شیرزئی کی طالبان کی بیعت: ’افغانستان کا بلڈوزر اب طالبان کا بلڈوزر بن چکا ہے‘

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اگر آپ افغانستان میں رہے ہوں یا پھر افغانستان کی سیاست اور حالات کو پچھلے 20 سال میں کبھی بھی قریب سے جاننے کی کوشش کی ہو گی، تو آپ ’افغانستان کے بلڈوزر‘ کو یقینآ جانتے ہوں گے۔ اب یہ بلڈوزر صرف افغانستان کا بلڈوزر نہیں رہا بلکہ ’اسلامی امارت‘ کا بلڈوزر بن چکا ہے۔

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار سے تعلق رکھنے والے سابق سی آئی اے ایجنٹ، وارلارڈ، قندھار اور ننگرہار صوبوں کے سابق گورنر گل آغا شیرزئی نے اتوار کو کابل میں طالبان کی ’بیعت‘ کی ہے اور طالبان کے مطابق ’گل آغا شیرزئی اب اسلامی امارت کے ساتھی ہیں۔‘

2001 میں جب امریکہ نے طالبان کے خلاف افغانستان میں کارروائی شروع کی تو جنوبی صوبے قندھار میں شاید گل آغا شیرزئی امریکہ اور سی آئی اے کے پہلے وارلارڈ تھے جنھوں نے طالبان کے خلاف اُن کا ساتھ دیا۔

قندھار میں طالبان کے آنے سے قبل بھی گل آغا شیرزئی وہاں کے گورنر تھے اور طالبان کے کنٹرول کے بعد 2001 تک وہ قندھار سے باہر رہے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 3,084

تاہم طالبان کے جانے کے بعد وہ فورآ ہی قندھار واپس لوٹے اور دوبارہ بحیثیت گورنر کام شروع کیا۔ سی آئی اے اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنا پر وہ 2003 تک اس صوبے کے گورنر رہے اور بعد میں صوبہ ننگرہار کے گورنر بنے۔

گل آغا شیرزئی کیوں بلڈوزر کے نام سے مشہور ہیں؟

سابق گورنر اور افغان وارلارڈ گل آغا شیرزئی کے قریبی دوستوں کے مطابق انھیں بلڈوزر کا لقب ننگرہار میں ملا جب وہ 2005 سے 2013 تک ننگرہار کے گورنر رہے۔

ان کے مطابق ننگرہار میں جب گل آغا شیرزئی گورنر تھے تو صوبے کے دور دراز علاقوں کا دورہ کرتے وقت اہل علاقہ کی سب سے زیادہ اور واحد ڈیمانڈ راستوں کی بندش یا خراب راستوں کی وجہ سے مشکلات تھی، جو گورنر شیرزئی اُسی وقت نہ صرف مان لیتے تھے بلکہ کام کا آغاز بھی ہو جاتا تھا۔

گورنر شیرزئی ان دور دراز علاقوں کے دوروں میں اکثر اوقات گاؤں والوں کو نقد پیسے اور مشینری دیتے تھے اور وہ بغیر کسی انتظار کے وہاں پر کام شروع کرتے تھے اور بلڈوزروں اور دیگر مشینری سے راستے بناتے اور بند راستے کھول دیتے تھے۔

گل آغا شیرزئی کی ایک پرائیوٹ کنسٹرکشن کمپنی بھی تھی اور ذرائع کے مطابق وہ اکثر اپنی ہی کنسٹرکشن کمپنی کی بلڈوزر اور دیگر بڑی مشینری سے اسی جگہ لوگوں کے کام کیا کرتے تھے اور اسی وجہ سے وہ بلڈوزر کے نام سے مشہور ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود گل آغا شیرزئی نے بھی اپنے آپ کو بلڈوزر کہنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا اور 2014 میں افغانستان کے صدارتی اُمیدوار کا انتخاب لڑتے ہوئے اُن کا انتخابی نشان بھی بلڈوزر تھا۔

67 سالہ گل آغا شیرزئی جو جسم اور قد و قامت کے لحاظ سے بھی بڑے ہیں اور ٹائم میگزین نے ایک دفعہ انھیں افغانستان کے ‘Jabba the Hutt’ کا نام دیا۔

گل آغا شیرزئی کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق قندھار کے بعد وہ کئی عرصے تک صدر حامد کرزئی سے ہرات، قندھار یا ننگرہار کی گورنری کا مطالبہ کر رہے تھے اور بقول اُن کے ’مجھے کسی اور صوبے کی گورنری نہیں چاہیے۔‘

شیرزئی کے اس قریبی ساتھی کے مطابق وہ اس لیے ان تینوں صوبوں میں دلچسپی رکھتے تھے کیونکہ تینوں صوبوں کے ساتھ پاکستان اور ایران کے تجارتی راستے لگتے تھے اور شیرزئی ان تجارتی راستوں کے ذریعے مبینہ طور پر ’غیر قانونی طور پر‘ پیسے وصول کیا کرتے تھے۔

گل آغا شیرزئی جو طالبان کے سخت ترین مخالفین میں سے تھے، خود طالبان بھی ان کے سخت مخالف تھے اور انھیں ’بُچر‘ کا لقب دیتے تھے۔ سنہ 2001 میں طالبان کی پسپائی کے بعد گل آغا شیرزئی نے القاعدہ اور طالبان کے کئی جنگجوؤں کو ہلاک کیا تھا۔

بلڈوزر موسیقی کے دلدادہ

افغانستان کی بلڈوزر کے نام سے مشہور گل آغا شیرزئی کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ نہ صرف موسیقی سننے کے سخت شوقین ہیں بلکہ اکثر خود بھی گاتے ہیں۔

’راکہ جام راکہ جام‘ گل آغا شیرزئی کا گایا ایک پشتو گانا ہے جو کئی سال پہلے وائرل ہوا تھا۔ اگرچہ راکہ جام پشتو گانے کے بہت سے چاہنے والے ہیں لیکن ننگرہار کے گورنر کے زمانے میں ان کے ایک انتہائی قریب ساتھی کا کہنا ہے کہ جب وہ لانگ ڈرائیو پر جاتے تھے تو اکثر گورنر گل آغا شیرزئی بم پروف گاڑی میں گانے گایا کرتے تھے۔

ان کے قریبی ساتھی کے مطابق وہ سفر کے دوران بھی گانے گنگناتے تھے۔ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سخت تھکاوٹ میں بھی گورنر شیرزئی پوچھتے تھے کہ کیسا مزہ آ رہا ہے؟ ہم کہتے تھے ہاں ہاں بہت خوب بہت خوب۔ حالانکہ ہم اور دیگر ساتھی دل ہی دل میں اُن کے گانوں سے سخت نالاں تھے۔‘

چینی کمپنی کے انچارج کی پٹائی

گورنر ننگرہار کے دور میں ان کے یہ قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ گورنر شیرزئی کے ساتھ اکثر جلال آباد سے کابل تک ایک ہی گاڑی میں سفر کرتے تھے اور ایک ایسے ہی سفر میں گورنر شیرزئی نے سڑک پر کام کرنے والے مزدور اور چینی انچارج کی پٹائی کی تھی۔

وہ بتاتے ہیں ’ایک مرتبہ ہم جلال آباد سے کابل کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ماہیپر کے مقام پر سڑک پر تعمیر کا کام جاری تھا۔ گورنر نے دیکھا کہ سڑک کنارے کام کرتے ہوئے ایک مزدور ’شولڈر‘ سڑک کے کنارے سے مٹی اُٹھا کر ریت کے ساتھ مکس کر رہا تھا۔

’گورنر نیچھے اُترے اور مزدور کو گریبان سے پکڑا اور ڈانٹا کہ کیوں مٹی باقی مٹیریل کے ساتھ مکس کررہے ہو؟‘

گورنر کے اس قریبی ذرائع کے مطابق مزدور کو ڈانٹتے ہوئے دیکھ کر سڑک بنانے والی کنسٹرکشن کمپنی کے انچارج جو چینی باشندے تھے وہ آئے۔ ’گورنر شیرزئی نے اُن کو بھی گریبان سے پکڑا اور بُرا بھلا کہا۔ بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ یہ تو گورنر شیرزئی ہیں۔‘

بلڈوزر اب اسلامی امارت کے بلڈوزر ہوں گے

‘افغانستان کا بلڈوزر اب طالبان کا بلڈوزر بن چکا ہے’

طالبان کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شائع کی گئی ایک ویڈیو میں سابق گورنر گل آغا شیرزئی طالبان کے رہنما خلیل الرحمان حقانی کی موجودگی میں ’بیعت‘ لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے جب طالبان نے کابل پر کنٹرول حاصل کیا تو گل آغا شیرزئی نے ایک ویڈیو پیغام میں طالبان کو مبارکباد دی تھی اور انھیں خوش آمدید کہا تھا۔

بیعت کی اس ویڈیو میں بیعت لینے اور تکبیر کے نعروں کے بعد طالبان کے ایک رہنما مفتی محمود ذاکری کہتے ہیں کہ ’جناب شیرزئی صاحب نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان کے بلڈوزر ہیں۔‘ اس کے جواب میں گل آغا شیرزئی سر ہلاتے ہوئے کہتے ہیں ’جی ہاں بالکل۔‘

مفتی ذاکری مزید کہتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں کہ’اب میں یہ کہتا ہوں کہ وہ ہم سب، اسلامی امارت اور امیرالمومنین کی جانب سے پورے افغانستان کو بنانے والے بلڈوزر ہوں گے۔‘ اس کے بعد گل آغا شیرزئی اور خلیل الرحمان حقانی سمیت تمام رہنما ’انشا اللہ‘ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

طالبان رہنماؤں کے مطابق اب ان کی کسی بھی افغان سیاست دان کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہیں اور تمام افغان سیاست دانوں کے لیے ’عام معافی‘ کا اعلان کرتے ہیں۔

اگرچہ طالبان کے بعض مخالفین اب بھی اُن پر الزام لگاتے ہیں کہ طالبان کے آگے تسلیم ہونے کے بعد اُن کے جنگجوؤں نے بہت سارے افغانوں کو مار دیا ہے۔ لیکن طالبان اسے ’پروپیگنڈہ‘ کہتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.