کوئٹہ میں کچرہ چننے والے بچوں کا اسکول

فیچر رپورٹ : عبدالکریم

شکور اور دوسرے افغان پناہ گزین بچے دو سال پہلے تک یا تو ہوٹلوں،تندور، گیراج میں کام کرتے یا کچرا چنتے تھے۔ مگر اب ان کی زندگی میں ایک کمیونٹی سکول تبدیلی لا چکی ہے

انہی افغان پناہ گزینوں میں سے ایک کہانی ثناء اللہ کی بھی ہے۔ سکول پڑھنے سے پہلے وہ صرف گھر پر اپنے دوسرے بہن بھائیوں سے ملکر مصالحہ جات بناتے اور فروخت کرتے۔

 مگر مصالحہ جات کے خرید و فروخت کے دوران انہیں حساب کتاب میں مشکلات کا سامنا تھا۔ مگر سکول پڑھنے کے بعد اب وہ حساب کتاب میں ماہر ہوچکے ہے۔

ان کے مطابق :یہ سکول کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس میں دو کمرں پر مشتمل ہے جسے یہاں کے ایک مقامی خاتون حلیمہ نے دو سال پہلے شروع کیا۔

علاقے میں تعلیمی ادارے کم ہونے اور غربت کے باعث اکثر افغان پناہ گزین کے بچے اسکول نہیں پڑھ سکتے تھے اسی مسئلے کے حل کے لئے حلیمہ نے اپنے گھر کے ایک کمرے کو سکول میں تبدیل کیا اور انہوں نے اپنے دن کے پانچ گھنٹے اس سکول کے لئے  وقف کیا ہے۔

اس کمیونٹی اسکول کو بنانے میں حلیمہ کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان مشکلات میں افغان پناہ گزین بچوں کو اکھٹا کرنا ان کے لئے اسکول بیگ، کاپیاں اور دوسرے سامان کے لئے چندہ اکھٹا کرنا اور سکول کی رجسٹریشن شامل ہے

اس سکول کو چلانے کے لئے حلیمہ محلے کی کمیٹی کے ذریعے چندہ اکھٹا کرتی ہے اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کو پورا کرتی ہے۔ حلیمہ کا حکومت اور دیگر اداروں سے یہ اپیل ہے کہ وہ اسکول کو وسعت دینے اور اس کی کارگردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ان کا ساتھ دے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے اراستہ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں