شیعہ ملیشیا نہ ہوتی تو بغداد اور دمشق پر دولت اسلامیہ کی حکومت ہوتی، ایرانی وزیر خارجہ کا ٹویٹر پیغام

0

تہران : ویب ڈیسک

ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ایرانی اور عراقی شیعہ ملیشیا نے قربانیاں نہیں دی ہوتیں تو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بغداد اور دمشق پر حکومت کر رہی ہوتی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں بھی سوال کیا کہ وہ کون سا ملک ہے جو دولت اسلامیہ کی واپسی کے خلاف عراقیوں کے گھروں کی حفاظت کیلئے کھڑا ہوا؟ ‘جواد ظریف نے اسی ٹوئٹر پیغام میں امریکا کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ‘شرمناک’ قرار دیا جو ‘پیٹروڈالرز’ کے دبا ﺅآکر بنائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ ایران کے وہ جنگجو جو عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں، انہیں اب واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ جنگ ختم ہونے کو ہے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,518

امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے انڈیا جانے سے قبل سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔سعودی عرب میں امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ایران کے جنگجوں کو عراق سے واپس چلے جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، دوسرے غیر ملکی جنگی بھی جو عراق میں موجود ہیں واپس جانا چاہیے، تاکہ عراقی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرسکیں، جو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروایا گیا ہے۔

غیر ملکی جنگجو واپس جائیں گے تو ہی عراقی وہاں رہائش پذیر ہوں گے۔ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ چاہتے ہیں کہ عراقی شیعہ ملیشیا یا تو عراقی فوج میں شامل ہو جائیں یا اپنے ہتھیار ڈال دیں اور ان کے ایرانی حامی ملک سے چلے جائیں۔عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی کی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے، ریکس ٹلرسن نے کہا کہ وزیر اعظم حیدر العبادی نے اپنے ملک اور فوجی کارروائیوں پر مکمل کنٹرول کیا ہے۔

وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو جانتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ کرد جنگجوں سے آئین کے مطابق طرح نمٹا جائے گا۔سعودی عرب میں یہ بیانات دینے کے بعد امریکی سیکرٹری خارجہ نے قطر کے دارالحکومت دوحا پہنچے۔گزشتہ اتوار کو شہزادہ محمد بن سلمان سے مذاکرات کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب اور قطر مذاکرات کیلئے تیار نہیں ہیں۔

سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر کے ساتھ تعلقات جون کے مہینے سے منقطع کئے ہوئے ہیں اور قطر اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی میں گذشتہ پانچ ماہ سے کوئی کمی نہیں آئی ہے۔اس سے قبل جولائی کے مہینے میں خطے کے دورے کے دوران بھی ریکس ٹلرسن خلیجی بحران کو ختم کرنے کی ایک کوشش کر چکے ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔واضح رہے کہ اس دورے کے دوراں امریکی سیکریٹری خارجہ نئی دہلی کا بھی دورہ کریں گے جہاں ان کے بقول وہ انڈیا کے ساتھ 100 سالہ ‘سٹریٹیجک پارٹنرشپ’ کا آغاز کریں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.