بلوچستان میں صارفین کے تحفظ کے ایکٹ 2003 پرعمل درآمد نہ ہونا حق تلفی ہے

0

خصوصی رپورٹ: محمد غضنفر  

 دنیا میں کسی بھی صارف کویہ حق حاصل ہے کہ وہ جو چیز خرید رہے ہیں انہیں اس کی قیمت، معیار اور معیاد کے بارے میں آگاہی دی جائے ۔ مگر بلوچستان میں صارفین اپنے اس حق سے محروم ہیں۔

 
اس طرح کی نوک جھوک کا سامنا خرم یعقوب کو روز ہی رہتا ہے دکاندار اور اس کے مابین اشیا ء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور انکے معیار پر بحث کوئی نئی بات نہیں ۔۔۔۔۔مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ صرف دکاندار کے ساتھ بحث کرنے سے اسکا مسئلہ حل ہوگا بلکہ بحیثیت ایک صارف اس کا اپنا ایک حق بھی ہے ۔ 

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

 

  خرم یعقوب کے مطابق ” ہم لوگوں کو کچھ پتا نہیں ہے دکاندار جتنا ریٹ دیتے ہیں ہم سامان لے کر چلے جاتے ہیں ۔۔۔مہنگائی تو حد سے زیادہ اوپر چلی گئی ہے سبزی کی قیمتیں ایک دن کچھ بتائی جاتی ہیں اور دوسرے دن ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح گوشت اور دودھ کی قیمتوں کا بھی یہی حال ہے

خرم یعقوب اور دکاندار کے مابین اشیا ء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور انکے معیار پر بحث روز کا معمول ہے

 

 اقوام متحدہ عالمی سطح پر صارفین کے حقوق کی پابندی کے لیے گائیڈلائن آف کنزیومر پروٹیکشن کا قانون پاس کرچکی ہے ۔ اقوام متحدہ کے دستاویزات کے مطابق پاکستان نے 1985ء میں اس قانون پر عملدآمد کے لیے دستخط کئے ۔ صوبہ بلوچستان میں 2003ء میں صارفین کے تحفظ کا ایکٹ منظور کیا گیا مگر تاحال یہاں اس قانون پر عملد آمد کے لیے کنزیومر کورٹس قائم نہیں کئے گئے ۔ 

کوئٹہ میں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بلوچستان کی واحد سماجی تنظیم کے عہدیدار نذر بڑیچ کے مطابق بلوچستان میں کنزیومر کرائم نے شدت اختیار کر لی ہے ۔ ادویات اور اشیاء خوردنی میں کیمکل اور جان لیوا مضر صحت اشیاء خوبصورت پیکنگ میں فروخت کیے جا رہے ہیں ۔ اس کی روک تھام کے لیے کونسل اور کنزیومر کورٹس کی عدم موجودگی صارفین کی حق تلفی ہے ۔  

 نذر بڑیچ کے بقول “ملک میں پنجاب صارفین کے حقوق کے لیے عدالتیں قائم کرنے کے حوالے سے سرفہرست ہیں جہاں 17کنزیومر کورٹس کام کررہی ہیں بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جس کے صوبائی درالحکومت کوئٹہ میں کنزیومر کورٹس تو دور کی بات کنزیومر کونسل بھی نہیں بنی اس کے لیے ہم نے باقاعدہ مہم بھی چلائی اور مشعل بردار ریلی بھی نکالی اور باقاعدہ طور پر بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج بھی کیا ساتھ حکومت کو یاداشت بھی پیش کی اور اسمبلی فلور پر تحریک التواء بھی پیش کروائی ۔

ادویات اور اشیاء خوردنی میں کیمکل اور جان لیوا مضر صحت اشیاء خوبصورت پیکنگ میں فروخت کیے جا رہے ہیں

 

 بلوچستان میں بہت کم ہی صارفین کو اپنے حقوق کا علم ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے ان حقوق سے ناواقف ہیں ۔ 
 
ناصر سلیم کے مطابق” افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں پڑھا لکھا شخص بھی اپنے حقوق کے بارے میں نہیں جانتا ایک پروفیسر یا ٹیچر یا عام صارفین بھی اس سے ناآشنا ہیں ۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ کسی نے محسوس نہیں کیا کہ کوئی پرائس کنٹرول کمیٹی بھی موجود ہے ۔

صارف کا حق بھی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور یہ آرٹیکل 9اور10کے زمرے میں آتا ہے

  ماہرین قانون کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ریاست صارفین کے 8حقوق کو تسلیم کر چکا ہے اور ان حقوق کا تحفظ آئین پاکستان کی بنیادی حقوق کی شق میں بھی شامل ہے ۔ 

 
 بلوچستان کے معروف ماہر قانون شاہ محمد جتوئی کے مطابق” صارف کا حق بھی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور یہ آرٹیکل 9اور10کے زمرے میں آتا ہے اگر کوئی صارف کوئی چیز خریدتا ہے تو وہ اس چیز کی قیمت ، معیار اور میعاد کو بھی دیکھنے کا حق رکھتا ہے ۔ 
 

گو کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کوئی کنزیومر کورٹ نہیں ہے لیکن کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیاں وجود رکھتی ہیں ۔  

عالمی سطح پر تسلیم کردہ صارفین کے حقوق میں تحفظ ، معلومات ، انتخاب ، سننے اور جاننے ، بنیادی ضروریات ،تلافی اور صحت مند ماحول کی فراہمی کا حق شامل ہے

   
اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ ثانیہ صافی کے مطابق “پرائس کنٹرول ہوتا ہے اسے ہمارے مجسٹریٹ کنٹرول کرتے ہیں گزشتہ چار مہینوں کے دوران ہم نے بہت زیادہ کارروائیاں کرکے جرمانے کی مد میں ریونیو حاصل کیا صارفین کی شکایات بھی مختلف ذرائع سے سنتے ہیں اور ان کے ازالے کے لیے کارروائی بھی کی جاتی ہے  ۔
 

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کوئی کنزیومر کورٹ نہیں ہے

 

اس سلسلے میں بلوچستان کے محکمہ قانون کے چیف ڈرافٹ میں شوکت مریکے مطابق بلوچستان میں صارفین کے تحفظ کا ایکٹ برائے 2003 پر عمل درآمد کرنے کے لیے محکمہ قانون اور صنعت و حرفت ملکر کام کررہے ہیں کنزیومر کورٹس کی تشکیل کے لیے جلد ہی سمری وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ارسال کی جائے گی

عالمی سطح پر تسلیم کردہ صارفین کے حقوق میں تحفظ ، معلومات ، انتخاب ، سننے اور جاننے ، بنیادی ضروریات ،تلافی اور صحت مند ماحول کی فراہمی کا حق شامل ہے ۔ صارفین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ صارفین کو بھی اپنے حقوق کا ادارک ہو تاکہ وہ منظم ہو کر جد وجہد کرسکیں ۔  

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.