بلوچستان کا حسین تفریحی مقام مولہ چٹوک

0

تحقیق و رپورٹ ۔۔۔۔سہیل بلوچ

تفریحی مقامات کسی بھی شہر اور ملک کی پہچان ہوا کرتے ہیں اور لوگ شہر کی ہلچل اور پریشانیوں سے نجا ت کیلئے تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں اور وہاں کچھ دیر سستا کر اپنیتھکن اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرتے ہیں

بلوچستان میں تفریحی مقامات کی بھرمار ہے مگر یہاں سہولیات کی کم سڑکوں کی خستہ حالی اور دیگر مسائل کے باعث یہاں کییہ خوبصورت مقامات لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں

آج ہم آپ کو بلوچستان کے ایک ایسے جگہ کی سیر کراتے ہیں جو شاید کم لوگوں نے دیکھی ہوگی بلوچستان کا ضلع خضدار ایک اہم گزرگاہ اور مشہور شہر ہے یہاں سے بلوچستان کے تمام سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو تعلق رہاہے جیسے سردار عطا اللہ مینگل ،سردار اختر مینگل ،غوث بخش بزنجو وغیرہ بھی ضلع خضدار سے تعلق رکھتے ہیں ،مولہ چٹوک کا راستہ بہت دشوار گزار سہی لیکن بہت ہی خوبصورت ہے

مولہ چٹوک خضدار ڈسٹرکٹ کے وسط میں پہاڑیوں کے گھاٹیوں میں واقع ایک چھپی ہوئی خوبصورت جگہ ہے. یہ الگ الگ، خاموش اور بالکل شاندار ہے. مولہ کا گاؤں خضدار سے تقریبا 80 کلو میٹرکے فاصلے پر ہے، جس میں ایک چھوٹی سی وادی 1237 میٹر کی بلند ترین چھوٹی پر واقع ہے

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

بلوچستان کے لوگ مولہ ایک چھوٹے سے علاقے کو کہتے ہیں اور چٹوک براہوی زبان میں پانی کے قطرے قطرے گرنے کوکہتے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مولہ چٹوک کا پانی سردی میں بھی گرم رہتا ہے۔

پہاڑوں کے کہیں اندر نا معلوم مقامات سے آتے ہوئے جھرنے، سادہ لیکن صاف ستھرے مٹی سے بنے مکانات جن کے مکینوں کے دل بھی مکانوں کے آنگن کی طرح وسیع ہیں

مولہ چٹوک دراصل 2 نسبتاً بڑی اور 3 چھوٹی آبشاروں کا مجموعہ ہے۔ پانی مسلسل اونچائی سے آبشاروں کی صورت میں نیچے گرتا ہے جس کے باعث ہر آبشار کے سامنے ایک چھوٹا سا تالاب بن گیا ہے ۔

سب سے پہلا تالاب انسانی اونچائی کے برابر گہرا ہے، جب کہ آگے کے تالاب زیادہ گہرے نہیں ہیں۔ یعنی جو پہلا پل صراط پار کرگیا اس کے سامنے مزیدآسانیاں ہونگیں۔ شاید کبھی کوئی ہمت والا پہاڑوں کے پار ان آبشاروں کے کو بھی دریافت کر لے گا۔ کیونکہ پہاڑوں کے درمیان سے ہی نہیں بلکہ دوسری جانب پہاڑ کے اوپر سے بھی پانی نیچے گر رہا ہوتا ہے۔

چٹانوں سے مسلسل پانی گزرنے کے باعث ان چٹانوں پر نقش و نگار اور راستے بن گئے ہیں، جو حسین ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہیں کہ اگر آپ پانی کے زور سے آگے بہہ نکلیں تو چکنی اور چمکدار چٹانوں میں پیر جمانا یا ہاتھ سے کوئی سہارا لینا ممکن نہیں۔ لہٰذا آبشاروں کے اندر جانے کی ہمت وہی کریں جنہیں تیرنا آتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.