کوئٹہ میں کھیلوں کےمیدان نہ ہونے کے برابر نوجوان منفی سرگرمیوں کی جانب راغب ہونے لگے

گرونڈز بھی سیاسی و مزہبی جماعتوں کے نظر ہورہے ہیں

0

 

کوئٹہ(منور شاہوانی) صوبائی دارالحکومت میں کھیلوں کے میدان نہ ہونے کے برابر ہوگئے ہیں نوجوان نسل منفی سرگرمیوں کی جانب راغب ہونے لگے،کھلاڑی ایوب اسٹیڈم کے سڑکوں یا شہر سے باہر جاکر میدانی علاقوں میں کھیلنے پر مجبور ہے،شہر کے گرونڈز میں سرفہرست ایوب اسٹیڈم اور شہید صادق گرونڈز ہے،جہاں سینکڑوں کھلاڑی کھیلتے ہیں

ایوب اسٹیڈیم کے سڑکوں پر ایک وقت میں کئی ٹیم کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں،یہ اندازاہ لگانا مشکل ہے کہ کس کا گیند کونسا ہے،دوسرے جانب وہاں سے گزرنےوالے راہگیروں کو بھی گیند لگنے سے جھگڑے روز کا معمول بن گئے ہیں دوسرے جانب یہ گرونڈز بھی سیاسی و مزہبی جماعتوں کے نظر ہورہے ہیں، کسی بھی پارٹی کے جانب سے جلسہ کیا جائے تو ان گرونڈز بھی کیا جاتاہے جس دن یہاں جلسہ ہو سیکورٹی خدشات کے پیش نظر 2 دن قبل ہی گرونڈز میں کھیلنے پر پابندی لگائے جاتے ہیں

،

کھلاڑی کہتے ہیں کہ سریاب سپورٹس کمپلیکس سمیت پی ایس ڈی پی میں شامل تمام کمپلیکس پر عمل درآمد کرکے تعمراتی کام شروع کیا جائے،تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے کھلاڑیوں پہلے مواقع فراہم نہیں کی جاتے تھے لیکن اب کھیلوں کی میدان بھی کوئٹہ میں کم ہوتے جارہے ہیں جس سے کھلاڑیوں میں مایوسی پیدا ہورہاہے، جبکہ نوجوان نسل کھیلوں سے دور ہونے کی وجہ سے چوری چکاری سمیت دیگر منفی سرگرمیوں کی جانب راغب ہورہے ہیں جوکہ المہ فکریہ ہے

 

،کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ گرونڈز نہ ہونے کے باعث وہ اپنے خواہش ادورہ چھوڑنے پر مجبور ہے،ان کے دلوں میں بھی نینشل انٹرنینشل لیول پرکھیلنے اور ملک و صوبے کا نام روشن کرنے کا جزبہ ہمیشہ سے ہے، لیکن پہلے تو ان کے خواہش میں مواقع رکاوٹ بنتے تھے، لیکن اب گرونڈز کے کمی ان کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے،

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: