چائینز لٹریچر میں ماسٹر کرنے والے بلوچستان کی پہلی خاتون : نتاشا

رپورٹ: مرتضیٰ زیب زہری

نتاشا نے چار سال تک چائینہ میں چائنیز لٹریچر کی تعلیم حاصل کی اور آج وہ جامعہ بلوچستان کے چائینز اسٹڈی سینٹر میں دوسرے طلباء کو چائنیز زبان کی تعلیم دے رہی ہیں۔

نتاشا نے”بلوچستان 24“سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے چائینز اسٹڈی سینٹر میں ان دنوں بیسک اور لیول ون میں چائینز زبان سیکھانے کی کلاسیں کامیابی سے جاری رہی ہیں

نتاشا کے مطابق: ”اس سلسلے میں مزید بھی کوشش کی جارہی ہے کہ طلباء کے لیے چائینز زبان کی ایڈوانس کلاسیں شروع کی جائیں “۔

نتاشانے بلوچستان یونیورسٹی کے میں چوتھی انوویشن سمٹ میں اسٹال بھی لگائی ہیں جس میں چائینز ثقافت کے رنگوں کو نمایا طور پر دیکھا گیا ہے اس اسٹال میں چائینز کتابوں کے علاوہ چائینہ کا روایتی پنکھا، چوپ اسٹکس اور دیگر اشیاء بھی رکھی گئی ہیں۔

نتاشا نے بتایا کہ بلوچستان میں پاک چین دوستی کو لوگ بہت دل کی گہرائی سے خوش آمدید کہہ رہے ہیں اس کی واضع مثال یہ ہے کہ چائینہ اسٹڈی سینٹر میں اب 150کے قریب طالبہ و طالبات چائینز زبان سیکھ رہے ہیں۔

نتاشا کی کہانی کے حوالے سے یہ ڈیجیٹل ویڈیو بھی دیکھیں 

ِِِِِِِِِِِِِِِِِ

نتاشا کے مطابق چائینز ثقافت کے حوالے سے اسٹال لگانے کا بنیادی مقصد بلوچستان کے طلباء کو یہ آگاہی دینا بھی ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں بھی اب چائینز اسٹڈیز شروع ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ پاک چین دوستی کے تحت اس وقت گوادر میں پاک چین اقتصادی راہ داری کے تحت مختلف منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ سی پیک کا منصوبہ پاکستان کی ترقی کا ضامن قرار دیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں مستقبل قریب میں بڑی تعداد میں کاروبار کے سلسلے میں چین اور پاکستان میں وفود کا بڑے پیمانے پر تبادلہ ہوگا جبکہ دونوں ملکوں کے عام شہریوں کا بھی ایک دوسرے کی ثقافت، رہن سہن، بودوباش کو جاننے کے لیے آنا جانا رہے گا اس لیے دونوں ممالک کے لوگوں کے لیے ایک دوسرے کی زبانیں جاننا ضروری ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کے طلباء اس اقدام کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ چائینز اسٹڈیز کو صوبے کے دیگر شہریوں تک وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ طالب علم چائینززبان کو سیکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں