بلوچستان اسمبلی میں گیارہ ہزار کانسٹیبلری فورس میں سے پانچ ہزار کے غائب ہونے کی باز گشت

0

 

کوئٹہ :ویب رپورٹر

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو چالیس منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئر مین کے رکن ولیم جان برکت کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں وقفہ سوالات کے بعد مسلم لیگ(ن) کے رکن پرنس احمد علی نے بلوچستان کانسٹیبلری سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس دیتے ہوئے سوال کیا کہ 2004ء میں بلوچستان کانسٹیبلری میں تعینات ہونے والے سپاہی اب تک اپنے اضلاع میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے کی بجائے دیگر اضلاع میں ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو وزیر داخلہ بتائیں کہ ان سپاہیوں کوا ن کے اپنے اضلاع میں نہ بھیجنے کی کیا وجوہات ہیں۔ پرنس احمد علی کا کہنا تھا کہ آج تک ہم نے بلوچستان کانسٹیبلری کے حوالے سے اپنی پالیسی بھی درست طریقے سے وضع نہیں کی آج بھی ایک ضلع کے اہلکار دوسرے ضلع میں تعینات ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,747

انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ اگر انہیں ان کے اپنے اضلاع میں تعینات نہیں کیا جاتا تو کم از کم انہیں ان کے قریبی اضلاع میں بھیجنے کے حوالے سے پالیسی بنائی جائے۔ جے یوآئی کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری میں تعینات اہلکاروں کی بھلا کیا تنخواہ ہوگی انہیں اپنے ضلع کی بجائے دیگر اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے اگر وہ دو مہینوں میں ایک بار بھی اپنے گھروں کو جائیں تو تنخواہ آنے جانے کے اخراجات میں اٹھ جاتی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ میں ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ گیارہ ہزار اہلکاروں میں سے پانچ یا ساڑھے پانچ ہزار اہلکاربھی باقاعدگی سے ڈیوٹی نہیں کرتے آدھی تنخواہ وہ اوپر دے دیتے ہیں اور ماہانہ تین سے چار کروڑ روپے جمع ہوکر اوپر جاتے ہیں۔ انہوں نے چیئر مین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے آپ کی رولنگ آنی چاہئے نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ رولنگ اگر قوانین سے متصادم ہوئی تو کیا ہوگا بلوچستان کانسٹیبلری کو صوبے میں ہر اس وقت بھیجاجائے گا جہاں مسئلہ ہو۔ چیئر مین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عبدالمجیدخان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے گیارہ ہزار ملازمین ہیں وہ اپنی آدھی تنخواہیں پولیس افسران کو دیتے ہیں اور اس کے بدلے میں ڈیوٹیاں نہیں کرتے ہمارے علاقے میں تو ہم بی سی اہلکاروں کو صرف پہلی تاریخ کو دیکھتے ہیں جب وہ تنخواہ لینے آتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے میر عبدالکریم نوشیروانی نے محرک سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ کانسٹیبلری کو صوبے میں کہیں بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

پشتونخوا میپ کے پارلیمانی رہنماء وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری بی ایریا کی فورس ہے جس کے لئے اے ایریا سے بھرتیاں کی گئیں یہ طریقہ کار غلط تھا مگر اب ہم بہتر کررہے ہیں آج کابینہ نے بھی اس حوالے سے الائیڈ فورس بنانے کی منظوری دے دی ہے۔

بعدازاں وزیر داخلہ و قبائلی امورمیر سرفراز بگٹی نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان کانسٹیبلری جب بنی تب اس کے لئے اے یا بی ایریا کی کوئی بات نہیں اس حوالے سے قواعد میں بالکل واضح طو رپر لکھا ہے۔ یہ فورس کہیں بھی ڈیوٹی کرسکتی ہے اور متعلقہ حکام انہیں کہیں بھی بھیج سکتے ہیں اب ہم کابینہ نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے کہ ہم بلوچستان کانسٹیبلری سے جوان لے کر انہیں اے ٹی ایف کی ٹریننگ دلائیں گے اور ضروری وسائل مہیا کریں گے جہاں تک بی سی کا تعلق ہے تو اس کے لئے کہیں کوئی قدغن یا پابندی نہیں یہ کسی مخصوص ضلع میں ڈیوٹی کی پابند نہیں بلکہ پورے صوبے میں جہاں ان کی ضرورت ہوگی یہ ڈیوٹی دیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.