پولیو ورکر کی زندگی

عبدالکریم

امی سر نے کہا کہ اس ماہ اگر فیس جمع نہیں کیا تو آپ کو سکول سے نکال دینگے،

اور امی سر یہ بھی کہہ رہا تھا کہ وردی اور جوتے بھی لازمی لانا اس ہفتے میں ورنہ پھر بھی نہیں چھوڑیں گے آپ کو سکول میں آج کل پر آپ نے پورا سال گزار دیا،

لیکن آپ نے بھی تک وردی نہیں بنوائی ہے،

سلمان کی امی سلمان کو جواب دینے والی تھی کے بیٹی کی آواز اس کی کانوں میں پڑی، امی جان کل مالک مکان آیا تھا،کہہ رہا تھا آپ لوگوں نے مذاق بنایا ہے اور مکان کو اپنا خاندانی جائیداد سمجھا ہے کیا کئیں مہینے ھوگئے آپ لوگوں نے کرایہ ادا نہیں کیا

،اگر اس بار بھی ٹال مٹول سے کام لیا تو اپنا بوریاں بستر اٹھا کر دفع ھوجاؤ،ورنہ زبردستی نکالنا پڑیگا آپ لوگ غریب ھوگئے تو اپنے لیے میں کیا کروں،اور ہاں امی جان راشن والا بھی پیسے مانگ رہا تھا.

بے بس اور لاچار ماں نے پولیو ویکسین کا ڈبہ اور کتاب اٹھایا گھر سے نکلنے والی تھی کہ بڑی بیٹی نے دادی اماں کا دوائی کے نسخے کی پرچی اس کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا دادی اماں کی دوائی ختم ہوچکی ہے، یہ لیکر آنا کیونکہ وہ بہت تکلیف میں ہے

سلمان کی ماں تکالیف اور مجبوریوں کا پہاڑ سر پر لیکر گھر سے محلے کی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کیلئے نکلی،جب وہ گلی کی چوک تک پہنچی

تو وہاں دیواروں سے ٹیک لگائے بزرگ بڑبڑھائے دیکھو وہ جارہی ہیں این جی اور بدکردار عورت سارا دن غیرمردوں کے ساتھ گھومتی ہیں اور ان کیساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوتی ہیں،

اس نے تو محلے کا نام بدنام کیا، اس کا شوہر اللّٰہ بخش دے اورنگ کتنا غیرت مند انسان تھا،لیکن اس کی بیوی نے اس کی غیرت اور عزت خاک میں ملا دی،

اس دوران پینسٹھ سالہ بہادر خان جو حال ہی میں رنڈوا ہوچکا تھا، بول پڑا اگر اتنا مردوں کے ساتھ رہنے کا شوق ہے، تو میرے ساتھ شادی کرلے ہمیشہ کیلئے خوش رکھونگا،

ایک زوردار قہقہہ لگا اور ان قہقہوں کی آواز مجبور ماں کی سماعتوں سے بھی ٹکرائی،

بے بسی کی تصویر بنی وہ ایک گھر میں داخل ہوئی اور گھر میں جیسی ہی داخل ہوئی تو سلام سے پہلے گھروں والوں نے اسے امریکی ایجنٹ کافروں کیلئے کام کرنے والی قرار دیا

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں