خیبرپختونخواہ؛گھریلو تشدد میں اضافہ ،قانون سازی میں رکاوٹیں حائل

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

خصوصی رپورٹ: ممانڑہ آفریدی
پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا اور خصوصاً نئے ضم شدہ اضلاع میں صنفی امتیاز کی شرح بہت زیادہ ہے۔ نئے ضم شدہ اضلاع کی خواتین بنیادی انسانی حقوق یہاں تک کہ تعلیم، صحت اور اظہار رائے کی آزادی سے بھی محروم ہے۔ پاکستان میں تین صوبوں نے گھریلو تشدد کے خلاف قوانین نافذ کئے ہیں لیکن خیبرپختونخوا میں ابھی تک اس پر خاطرخواہ کام کرنا باقی ہے۔ پاکستان کے  ایک نامور مذہبی سکالر نے کرونا وائرس  کی پھیلاؤ  کے ذمہ دار خواتین کے لباس کو  قرار دیا تھا۔ نیشنل میڈیا پر انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجوہات میں ایک وجہ لڑکیوں کا مناسب لباس نہ پہننا ہے، 2005 کے زلزلے کے بعد بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی تبصرہ کیا تھا۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی سترہ سالہ حمیرا نے کہا کہ کوویڈ 19 کے پھیلنے کے بعد گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمت کرنے والی خواتین کے مقابلے گھریلو خواتین کو زیادہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاون کے دوران مرد زیادہ تر وقت گھر پر موجود رہے اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔

گھریلو تشدد کے 393 واقعات رپورٹ ہوئے
لاک ڈاؤن کے دوران ، انسانی حقوق کے ڈائریکٹوریٹ کے پاس گھریلو تشدد کے 393 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی محتسب رخشندہ ناز نے بتایا کہ قبائلی علاقوں سے بھی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان ، بنوں اور حتیٰ کہ پاڑہ چنار سے کیسز آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے لہذا زیادہ تر معاملات رپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔
کے پی ڈومیسٹک وائلنس بل یعنی خیبر پختونخواہ گھریلو تشدد کا بل اگست 2012 میں اے این پی، پی پی پی مخلوط حکومت کے دوران صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت جے یو آئی (ف) کے قانون ساز مفتی کفایت اللہ نے بل پر اعتراض اٹھایا تھا اور اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھجوانے کا کہا تھا۔

سابق ایم این اے جمیلہ گیلانی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ  جب مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس بل کے خلاف اعتراض اٹھایا تو تمام خواتین قانون سازوں اور خواتین حقوق کارکنوں نے بل کے مخالفین کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہونے والی تھی ، لیکن بدقسمتی سے اس کا اختتام جس طرح چاہتے تھے اس طرح نہیں ہوا.
 یہ بل قومی اسمبلی نے 2009 میں متفقہ طور پر منظور کیا تھا ، لیکن سینیٹ میں رہ گیا۔ قومی اسمبلی کو ووٹ کے لئے بھیجنے سے قبل قانون سازوں نے اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی تھی۔ جے یو آئی ف کے اعتراضات کی وجہ سے مشترکہ اجلاس میں اس بل کو پاس نہیں کیا جاسکا۔ سابق ایم این اے بشریٰ گوہر نے بتایا کہ گھریلو تشدد کے بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ٓخیبرپختونخوا کی خواتین اراکین  نے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اسپیکر کے ذریعہ تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کی رکن بھی تھیں اور اتفاق رائے پیدا کرنے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کو متفقہ طور پر منظور کروانے کے لئے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کی رکن تھیں۔ جے یو آئی ایف کے اعتراضات تھے کہ بل مغربی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔

ضم اضلاع میں گھریلو تشدد عام ہے  لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والی 49 سالہ نجمہ نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں گھریلو تشدد عام ہے، نجمہ نے بتایا کہ جب اس کی شادی ہوئی تو اس کی عمر 15 سال تھی۔ اس نے بتایا کہ اس وقت ان کے شوہر کی عمر 13 سال تھی۔ انہوں نے کہا کہ سب میرے شوہر کو متنبہ کرتے کہ میں اس سے دو سال بڑی ہوں اور اسے اس پر قابو پانا چاہئے۔ “وہ مجھے ہر دن پیٹتا ، یہاں تک کہ دن میں کبھی کبھی دو یا تین بار مجھے پیٹتا کہ میں اس کا غلبہ قبول کروں۔ میں نے کبھی بھی اونچی آواز میں اس سے بات نہیں کی گویا وہ میری عمر کی وجہ سے غیر محفوظ محسوس کرے گا۔ اگر میں کسی مغربی ملک میں ہوتی تو بہت زیادہ اذیتیں برداشت کرنے کی وجہ سے میں دنیا کا سب سے مضبوط پہلوان ہوتی’ نجمہ نے مسکراتے ہوئے اپنی تکالیف کا بتایا۔

نجمہ نے مزید کہا کہ جب وہ اپنی والدہ کو بتاتی کہ میرا شوہر مجھے روزانہ مارتا پیٹتا ہے اور میں اپنی والدہ کو تشدد کے نشانات دکھاتی تو میری والدہ مجھے کہتی “صبر کرو ، مجھے یقین ہے کہ آپ اسے تبدیل کر کے ایک اچھا آدمی بناوگی تم نے اس سے شادی کرلی ہے، تمہیں اس کے گھر میں رہنے اور مرنے کا عہد کرنا چاہئے۔
بولو ہیلپ لائن
خیبر پختونخوا حکومت نے خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے اور تمام ہنگامی حالات میں ان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے سماجی بہبود ڈائریکٹوریٹ ہیلپ لائن – بولو ہیلپ لائن 0800-22227 کا آغاز کیا ہے۔
تحریک انصاف کی موجودہ حکومت خواتین تحفظ بل کو منظور کرنے کے لئے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ پچھلی حکومت کی طرح ، اس بل کی منظوری کو مذہبی سیاسی جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
موجودہ حکومت نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی سے مکمل مشاورت کے بعد اس بل کا مسودہ تیار کیا ، لیکن اب بھی یہ بل منظور نہیں ہوا ہے کیونکہ ایک بار پھر مذہبی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے اس میں تبدیلیاں کی ہے۔
یہ بل 11 فروری ، 2019 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2019 میں جے یو آئی-ایف اور جے ایل کے قانون سازوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ بل کے ٹیبلنگ کے بعد ، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان اور جے یو آئی (ف) کے مولانا لطف الرحمن نے اسپیکر سے بل کی منظوری میں تاخیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ عنایت اللہ نے اسمبلی فلور پر متاثرہ لڑکیوں کو شیلٹر ہومز منتقل کرنے پر اعتراض کیا اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے معاملے کو حل کرنے کے لئے متاثرہ افراد کے لواحقین اور ملزمان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

جب حمیرا سے پوچھا گیا کہ اگر قانون منظور ہوا تو کیا وہ ملزم کے خلاف شکایت درج کروائیں گی؟ اس کا جواب ابھی تک نفی میں تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کا بھائی اسے باقاعدگی سے پیٹا کرتا تھا اور اس کی ماں کو شکایت کرنے پر اس کا بھائی مزید ناراض ہو گیا تھا اور اس نے اس کے سر پر پتھر سے مارا تھا جس کی وجہ سے وہ بری طرح سے زخمی ہوگئی تھی اور اس کا نظر دھندلا سا ہو گیا تھا۔ خواتین قانون ساز نے لفظ ’خواتین‘ سے متعلق بل میں ترمیم کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف خاتون کو “شکار” قرار دیا گیا ہے اور بچوں اور گھر کے دیگر افراد کو بھی اس بل میں شامل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “گھریلو تشدد کا لفظ” سندھ گھریلو تشدد ایکٹ 2013 میں گھریلو تشدد کے شکار افراد کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی عورت ، بچے یا کسی بھی کمزور فرد کو گھریلو تشدد کے کسی بھی واقعے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

قبائلی اضلاع میں 80٪ خواتین تشدد کی اطلاع نہیں دیتی
ضم شدہ اضلاع میں 80٪ سے زیادہ خواتین نے مدد طلب نہیں کی اور نہ ہی کسی کو گھریلو تشدد کے بارے میں بتایا۔ گھریلو تشدد میں ملوث ایک شخص نے کہا کہ تشدد طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ایک طریقہ ہے اور خواتین کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ ایسے ہی ایک شخص کے ساتھ انٹرویو کیا گیا تھا جس نے خواتین پر الزام لگایا کہ کورونا وائرس انکی وجہ سے پھیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مرد کو چاہئے کہ وہ اپنی طاقت عورت کو دکھائے اور معاشرے کو پاک رکھنے کے لئے ان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ثنا اعجاز نے بتایا کہ صدیوں سے اب تک ایک مقبول نظام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے کارکنان اس نظام میں تبدیلی لانے اور اسے ختم کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو گھر کی چاردیواری کے اندر ہی محدود رکھنے کا تصور خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کررہا ہے۔ قبائلی اضلاع میں گھریلو تشدد کا تناسب زیادہ ہے۔
انضمام شدہ اضلاع میں جن خواتین نے تشدد کا سامنا کیا ہے ان کی شرح سب سے زیادہ ہے جو کہ 66٪ ہے۔
عالم دین کا خیال ہے کہ مردوں کا غلبہ معاشرے میں توازن لاتا ہے ایک مقامی عالم نے اس کو چند آزاد خیال حقوق نسواں کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسلامی معاشرے کو دھوکہ دینے کے لئے خواتین کو اکسارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا قانون ہمارے معاشرے کو آلودہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایک اچھا گھر ، اور ایک اچھا معاشرہ وہی ہے جہاں مرد ہی غالب ہوتا ہے اور اس کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ گھریلو تشدد ہر خاندان کا ذاتی معاملہ ہے اور کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ مولوی نے کہا ایک اچھا آدمی وہ ہے جو عورتوں کو نہیں مارتا۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ گھریلو تشدد کو پسند نہیں کرتے۔
بہت سی خواتین تشدد کو اپنا مقدر سمجھتی ہیں ثنا اعجاز نے کہا کہ گھریلو تشدد ہر جگہ ہے ، لیکن تناسب مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اکثر تشدد کو نظرانداز کرتی ہیں اور خاموش رہتی ہیں اور اسے اپنا مقدر تسلیم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں مثبت تبدیلیوں کے ذریعے تشدد کی حوصلہ شکنی اور خواتین کے حقوق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

جب نجمہ سے ان کی زمین اور جائیداد کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ جائیداد سے اسے زیادہ زندگی عزیز ہے۔ ہم اپنے بھائیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جب ہم ان کے گھر جاتے ہیں اور وہ ہمارے لئے اپنے دروازے کھلے رکھتے ہیں لیکن اگر ہم پراپرٹی میں حصہ لینے کی کوشش کریں تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے کہ بھائیوں کے دروازے ہمارے لئے بند ہوں، ہمارے تعلقات ہمارے لئے بہت زیادہ عزیز ہیں زمین میں ہمارا حصہ نہیں۔ نجمہ نے کہا کہ گھریلو تشدد خواتین کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لڑکی کو ابتدا ہی سے تربیت دی جاتی ہے کہ وہ صبر کے ساتھ تشدد برداشت کرے اور شکایت نہ کرے۔
2019،20 میں یو این ویمن کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں کئے گئے سروے اور ریسرچ کے مطابق کسی بھی ’خاص حالات‘ میں بیوی کو مار پیٹ کا جواز پیش کرنے والی خواتین کی شرح قبائلی اضلاع میں سب سے زیادہ ہے جو % 95 فیصد ہے۔
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: