معلومات تک رسائی کے قانون میں تبدیلی ناگزیر ہے

0

بلوچستان۲۴اسٹاف رپورٹر

کوئٹہ  :ایڈ بلوچستان بہ تعاون  نیشنل انڈومنٹ فنڈ فار ڈیموکریسی  کے تعاون سے “معلومات تک رسائی کا قانون “کے حوالے سے  دو روزہ تربیتی پروگرام، بوائے اسکاؤٹ کوئٹہ میں منعقد کیا گیا۔

اس موقع پر زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے 25 لوگوں نے  شرکت کرتے ہوئے معلومات تک رسائی کا قانون پہ تربیت لی.اس دو روزہ تربیتی پروگرام کا مقصد معلومات تک رسائی کے قانون کے حوالے سے اگاہی پھیلانا اور بلوچستان میں موجود معلومات تک رسائی کا قانون میں ردوبدل اور اثرانداز کرنے کے لئے مل کر کام کرنا۔

اس دو روزہ تربیتی پروگرام میں تربیت دینے والوں میں محترمہ فاطمہ ننگائل خان، محترم سہیل انصاری، میر بہرام بلوچ، عبدالحٔی بنگلز ئی اور میر بہرام لہڑی شامل تھے۔اس موقع پر میر بہرام لہڑی نے”معلومات تک رسائی کا قانون” کے صوبائی ، قومی اور بین الاقوامی تاریخ پر روشنی ڈالا اور اس قانون کے افادیت  پر ناظرین  کو اگاہ کیا اور بلوچستان کیبنٹ سے اس قانون کی منظوری کو سراہا اور امید کی کہ بلوچستان اسمبلی اسے جلد از جلد پاس کرے گی۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ،معروف سوشل ایکٹیوسٹ، بہرام بلوچ نے پاکستان میں اس قانون کے  تاریخی حوالے سے ناظرین کو اگاہ کرتے ہوئے کہا کہا کہ 2005 میں اس قانون کو بلوچستان حکومت نے پاس کیا، لیکن اب جدید دور میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس موقعہ پہ عبدالحئی ایڈوکیٹ نے بلوچستان کے پرانے قانون اور خیبر پختونخواہ کے 2013 کے قانون کا موازنہ کرتے ہوئے اس بات پہ زور دیا کہ ایک ازادنہ کمیشن کا بنانا لازمی ہے تاکہ شہری معلومات تک رسائی اسانی سے حاصل کر سکیں۔


اس موقع پر معروف سماجی نما ئندہ فاطمہ خان نے تربیتی شرکاء کو معلومات تک رسائی کی افادیت اور بلوچستان میں تاریخی حوالے سے اگاہ کیا، تربیتی پروگرام میں محترم سہیل انصاری صاحب نے قانون اور عمل درامد پہ روشنی ڈالتے ہوئے سحر حاصل بحث کیا۔ آخری دن ایڈ بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل جہانگیرنے خطاب کر تے ہوہے تما م معزز مہمانوں کاشرکت اور تعاون کا  شکریہ ادا کیا۔

تربیتی پروگرام کے اختتام میں محترمہ مینا بلوچ (سماجی ورکرو نمائندہ باپ پارٹی)نے تربیتی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، وزیراعلی بلوچستان جام کمال کی وژن کی تعریف کی اور کہا کہ ہماری حکومت نے اس بل کو کیبنٹ سے پاس کیا اور جلد بلوچستان اسمبلی سے بھی پاس کرے گی، اخر میں تربیتی شرکاء میں اسناد تقسیم کئیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: