بلوچستان اسمبلی میں شیخ رشید کی روح

0

کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) بلوچستا ن اسمبلی کے اجلاس کے موقع جب اسمبلی کے باہر اساتذہ کے احتجاج پر بحث ہونے لگی تو دو اراکین اسمبلی نے دلچسپ اظہار خیال کیا

صوبائی کابینہ سے منظور ہونے والے تعلیمی ایکٹ 2018ء کا ڈرافٹ ابھی تک ایوان میں منظوری کیلئے پیش نہیں کیا گیا

محکمہ تعلیم کو لازمی سروس قرار دینے سے متعلق ایکٹ پر اپوزیشن اساتذہ اور بلوچستان کے عوام کے مفاد میں اپنا فیصلہ کرے گی

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

نواب رئیسانی کی صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر سے لازمی سروس ایکٹ کیخلاف سراپا احتجاج اساتذہ سے مذاکرات کیلئے مشیر تعلیم سمیت حکومت اور اپوزشن اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی بھیجنے کی استدعا

ہم اساتذہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ آنے والی نسلوں کو بہتر تعلیم و تربیت دیں گے سراپا احتجاج اساتذہ کا رویہ دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اساتذہ احتجاج کے لئے نہیں غنڈہ گردی کے لئے بلوچستان اسمبلی کے باہرجمع ہوئے ہیں اساتذہ اسمبلی ممبران کو مردہ اور ایوان کو قبرستان کہہ کر پکار رہے ہیں،پوائنٹ آف آرڈر پر سید احسان شاہ نے اساتذہ کے احتجاج کے طریقہ کار پر نکتہ چینی

میری ڈپٹی اسپیکر سے استدعا ہے کہ اساتذہ سے مذاکرات کے لئے جانے والی کمیٹی کو پابند کرے کہ وہ اساتذہ سے پوچھیں کہ وہ اسمبلی ممبران اور اسمبلی کو کن الفاظ سے پکار رہے ہیں،احسان شاہ

شیخ رشید کی روح کو ایوان میں چھوڑ کر بلوچستان اسمبلی کے باہر سراپا احتجاج اساتذہ سے مذکرات کئے جائیں،نواب اسلم رئیسانی کااسمبلی میں اظہار خیال

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.