ہزار گنجی نیشنل پارک کی حالت بدسے بدتر ہونے لگی

رپورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالکریم

میاں غنڈی تفریحی پارک جس کو ہزارگنجی نیشنل پارک بھی کہا جاتا ہے، یہ پارک تین سو چالیس ایکڑ پر محیط ہے، اس پارک کی بنیاد سن دو ہزار میں رکھی گئی، تعمیر کے وقت پارک کے پندرہ ایکڑ زمین پر سبزہ اور پھول لگائیں گئے تھے، پارک میں بچوں کیلئے جھولے بھی نصب کئے گئے تھے، پارک کی تزئین بہت خوبصورتی سے کی گئی، چلتین پہاڑ میں رہنے والے جنگلی جانوروں کیلئے پنجرے بھی بڑے تعداد میں اس پارک میں موجود ہیں

لیکن اب اکثر پنجروں میں جنگلی جانور نظر نہیں آتے، پارک اب ویرانے کا منظر پیش کرتا ہے پارک میں موجود بڑی تعداد میں درخت خشک ہوچکی ہے، سبزہ اور پھول بھی اب نہیں رہیں اسی طرح جن جھولوں میں بچے جھومتے تھے اب ان جھولے میں بھی اب اکثر جھولے کباڑے میں بک چکے ہیں۔

عبدالرازق جو بہت عرصے کے بعد میاں غنڈی تفریحی پارک آیا ہے وہ پارک کی حالت دیکھ کر وہ بہت رنجیدہ ہے بلوچستان 24ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ” ایک وقت تھا جب کوئٹہ کے باسی اس پارک کی خوبصورتی دیکھنے کیلئے بڑی تعداد میں آتے تھے

اور یہاں میلے جیسا سما ہوتا تھا ہرسوں پھولوں اور سبزے پر بیٹھے مسکراتے چہرے نظر آتے تھے لیکن اب اس پارک کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے،

حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے ایک خوبصورت پارک کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے یہاں کی رونق ماند پڑچکی ہے”.

علی جان کئی سالوں سے اس پارک کے رکھوالی پر معمور ہے جب ہم نے پارک کی زبوں حالی کی وجوہات کے بارے میں ان سے پوچھا تو ان کا کہنا تھ

ا”پانی یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے پارک میں تین ٹیوب ویل ہیں جن میں دو بالکل خشک ہوچکے ہیں اور ایک خشک ہونے کی قریب ہے ہم واٹر سپلائی سے پانی منگوانے پر مجبور ہیں اور یہ پانی بھی صرف پینے کیلئے اور یہاں پر موجود جنگلی جانوروں کو پلانے کیلئے استعمال کرتے ہیں

ہمارے پاس پانی کا اتنا مقدار نہیں ہے کہ ہم انہیں درختوں اور پھولوں کو دے سکیں اور یہی وجہ ہے کہ درخت اور پھول خشک ہوں گئے ہیں – یہاں پر جو سبزہ تھا وہ بھی پانی کے نہ ہونے سے آہستہ آہستہ ختم ہو تا گیا اور اسی طرح پنجروں میں موجود اکثر جانور بھی مرگئے “.

نیشنل پارک جنگلی جانوروں کے نسل معدوم ہونے سے بچانے کیلئے بنائے جاتے ہیں بلوچستان میں جنگلی جانوروں کی تحفظ کیلئے دو نیشنل پارک ہیں جن میں ایک ہنگول نیشنل پارک اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے اور دوسرا ہزارگنجی نیشنل پارک پے نیشنل پارکس کے احاطے میں شکار پر پابندی ہوتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں