ووٹ کو عزت نہ دینے سے ملک بحران سے دوچار ہے،مریم نواز

رپورٹ۔۔۔۔۔عبدالکریم

آل پارٹیز کانفرنس کے زیراہتمام کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں جلسہ منقعد کیا گیا جلسے میں اپوزیشن کے مختلف پارٹیوں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، جمعیت العلماء اسلام، مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی یاد رہے اپوزیشن پارٹیوں نے پچیس جولائی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا

اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما الزمات لگاتے ہے کہ پچیس جولائی دوہزار اٹھارہ کو ان کا مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور جمہوریت پسند قوتوں کو اسمبلیوں سے دور رکھا گیا جلسے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے خصوصی شرکت کی،

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا “کہ نواز شریف بلوچستان سے محبت کرتے ہیں، نواز شریف نے پیچھلے سال بلوچستان کی عوام سے جب وہ خان شہید کے برسی موقع پر کوئٹہ تشریف لائے تھے تو انہوں نے اس وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری کی مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،

آج وہ اس وعدے کی پاسداری کے خاطر جیل میں بیٹھا ہے اور مجھے بھی اسی وعدے کی پاسداری کی سزا دی گئی اور مجھے جیل میں قید کرلیا گیا تھا

ان کا مزید کہنا تھا کہ پچیس جولائی کو عوام کی ووٹ کو پاؤں کے تلے روندا گیا اس لیے ہم اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں ” مریم نواز نے اسٹبلیشمنٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لاڈلے کی خاطر عوام سے جنگ مول نہ لیے.

نالائق وزیر اعظم امریکہ میں ٹرمپ کے سامنے بات کرنے سے خوفزدہ تھا ووٹ کو عزت نہیں ملی اسی لئے آج ملک سنگین بحرانوں سے دوچار ہے

آج صرف روٹی اور کھانے پینے کی چیزیں مہنگی نہیں ہوئی بلکہ ادویات بھی مہنگی کردی گئی وزیراعظم بیساکھیوں پر کھڑا ہے ان کی سوچ صرف اتنی ہے کہ 70سال کے نواز شریف کی اے سی اور ٹی وی بند کرادو

2018کے انتخابات میں مسلم لیگ ن بلوچستان میں حکومت بنا سکتی تھی مگر نواز شریف نے ڈاکٹر مالک بلوچ کو حکومت دی نواز شریف کوحکومت ملی تو انہوں نے چاروں صوبوں کو آپس میں جوڑدیا

بلوچستان کے غیورعوام کی عدالت کے سامنے نواز شریف کی بے گناہی کا مقدمہ رکھنے آئی ہوں آج میں بلوچستان کے عوام کی عدالت سے نوازشریف کی بے گناہوں پر مہرلگانے آئی ہوں

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمودخان اچکزئی نے جلسے کی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم وطن فروش نہیں ہے لیکن ہم پر ہیمشہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس ہندوستان اور اسرائیل سے پیسے آتے ہیں ہم پیسے لینے والوں میں سے نہیں ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف، آصف زرداری کو رہا کیا جائے

اور محسن داوڑ اور علی وزیر کو لازمی رہا کیا جائے اور اسی طرح سوات اور دیگر علاقوں میں جو جنگ لڑی گئی جس میں ستر ہزار لوگ شہید ہوئے جو کسی بھی جنگ میں اتنے لوگ شہید نہیں ہوئے اس کی تحقیقات کی جائے اور اس کیلئے فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیشن بنایا جائے جس میں جج، جنرل اور سیاستدانوں پر مشتمل ہوں اور اس بات کی تحقیق کریں کہ یہ لوگ کیوں شہید ہوئے.

عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا” ہمیں پارلیمنٹ سے نکالا لیکن ہم عوام میں زندہ ہے اج کا جلسہ اس بات کی غمازی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے ساتھ گروی رکھ دیا اور پھر کہتے ہے کہ سابقہ حکومتیں چور تھیں، لیکن جو لوگ کرپشن میں ملوث ہے اور انہوں نے آپ کا ساتھ دیا ہے تو وہ پاک ہوئے، موجودہ حکومت تمام حکومت کرپٹ ہے اور عمران خان ان کا سرغنہ ہے.

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا”

“نیشنل پارٹی ملک میں جمہور کی حکمرانی چاہتی ہے اور اس جمہور کی حکمرانی کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں، ملک میں انتقامی سیاست عروج پر ہے ملک میں دھاندلی کی سونامی آئی ہے۔

بلوچستان میں جو حکومت بنائی گئی میں ان ماں باپ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ لوگ غلطی پر ہیں اور بلوچستان کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے قوم پرست قوتوں کو دیوار سے لگانے کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے،

ہر دور میں ہم نے قربانیاں دی ہیں بلوچستان یونیورسٹی اور کالجوں میں سیاست پر پابندی ہے اور پارلیمنٹ میں کرپٹ لوگوں کو لانے کے لئے طلباء تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی جس کی ہم مذمت کرتے ہیں “۔

جلسے سے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا واسع اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور بعد میں قرار دادیں منظور کی گئیں

اپنا تبصرہ بھیجیں