خضدار میں قحط سالی کی داستان۔۔۔!

0


 

 2017ء کا سال جاتے جاتے ضلع خضدار میں خشک سالی قحط سالی کو بھی دورنہ کرسکا ،ضلع خضدار بلوچستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے جبکہ اس ضلع میں گلہ بانی، مال مویشی سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں ،

گزشتہ دس سے پندرہ سال کے دوران ضلع خضدار میں انتہائی بارشیں کم ہوئی ہیں بارشیں نہ ہونیکی وجہ سے گلہ بانی پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور مال مویشیوں کی تعدادمیں کمی ہوئی ہے ،جب کہ زیر زمین پانی بھی انتہائی نیچے جاچکی ہے آئے روز بورنگ کی تعدادمیں اضافہ ہورہاہے پچاس سے سو فٹ کے فاصلے پر بور لگانے کی وجہ سے زیرزمین پانی ختم ہوتی جارہی ہے ۔

ضلع خضدار میں بعض جگہ ایسے ہیں جہاں پر پانی خشک ہونے کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں نقل مکانی کرنے والے علاقوں میں باغبانہ اورخضدار شہر کے بعض علاقے شامل ہیں ،اسی طرح شہر خضدار میں سرکاری واٹرسپلائی کے کئی بورخشک ہوچکے ہیں جنکی وجہ سے ٹینکر مافیااب شہر میں راج کررہے ہیں

گزشتہ سال سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے خضدار شہر کو مولہ دریاسے پانی فراہم کرنے اور ضلع خضدار میں تین سو چیک ڈیم بنانے کا اعلان کیاتھا ،وہ اعلان اعلان ہی رہا ،اب بھی اگر یہ خشک سالی اور قحط سالی اسی طرح جاری رہا تو ضلع خضدار عموماً اور خضدار شہر خصوصاًبہت متاثر ہوگا ،اسی طرح دیہاتوں میں بھی بعض واٹرسپلائی اسکیمں خشک ہوچکے ہیں ،دیہاتوں کے خواتین ،بچے ،زرعی زمینوں پرلگے ٹیوب ویلوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں

مودجودہ صوبائی حکومت ضلع خضدار کے خشک سالی پر قابوپانے کی کوشش نہیں کی توبہت سے علاقوں کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبورہونگے اس کیلئے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت فوری طورپر ڈیم بنانے کی جانب توجہ دیں،

ماہرین نے کہاہے کہ ایک تو بارشیں نہیں ہورہے ہیں اگر کچھ علاقوں میں بارشیں ہوبھی جاتی ہیں تو ہم بارشوں کے پانی کو ضائع کرتے ہیں کیونکہ ڈیم نہ ہونے کے وجہ سے بارشوں کے پانی ندیوں سے ہوتے ہوئے دریا میں چلے جاتے ہیں اسی طرح زراعت سے وابسطہ لو گ بارش کے پانی کو اپنے زمینوں پر نہیں چھوڑتے اور یہ پانی بھی ضائع ہوجاتاہے اور زمینیں بھی کمزورہوتے جارہے ہیں

اس کے لئے ضروری ہے کہ زمیندار بھی بارش کی پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں بصورت دیگر صوبائی حکومت کے ساتھ زمینداروں کیلئے بھی پریشانی کا سبب ہوگا۔ضلع خضدارمیں کئی سالوں سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی نے پنجے گاڑ دئیے ہیں پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ انتہائی کسمپرسی کی حالات سے زندگی گزار رہے ہیں چراگائیں خشک ہوچکے ہیں .

مال مویشی ہلاک ہور ہے ہیں پانی سطح زمین سے ہزاروں فٹ نیچے جا چکی ہیں گلہ بانی مال مویشی پالنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامناہے جبکہ خضدار میں شدید سردی کو قابو کرنے کیلئے لوگ تیزی سے جنگلات کو کاٹ کربطور ایندھن استعمال کررہے ہیں اس حوالے سے یہاں کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ قحط سالی خشک سالی سے نمٹنے کیلئے فوری اور ہنگامی نبیادوں پر اقدامات کا آغاز کریں اگر قحط سالی سے فوری اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو آنے والے دنوں میں صورتحال انہتائی خطرنک شکل اختیار کرسکتی ہے۔۔

 

 

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: