ویب رپورٹ: بلوچستان 24
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ صوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے اور پولیس نظام کو عوام دوست بنانے کی کوششوں کے تحت نصیر آباد رینج کے تمام اضلاع میں خواتین پولیس اہلکاروں کو مختلف اہم اور ذمہ دارانہ عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق خواتین پولیس اہلکار اب مختلف تھانوں میں کمپلینٹ آفیسر، نائب محرر، کمپیوٹر آپریٹر اور دیگر انتظامی و فیصلہ سازی سے متعلق ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان تعیناتیوں کے بعد خواتین اہلکاروں نے گھریلو تشدد سمیت خواتین اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کی شنوائی اور ان کے فوری حل میں فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے اس اقدام پر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی نصیر آباد رینج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین اہلکاروں کی صلاحیتوں سے مؤثر استفادہ بہتر پولیسنگ، سروس ڈیلیوری میں بہتری اور عوامی سہولیات کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات کا مقصد پولیس اسٹیشنز میں خواتین سمیت تمام سائلین کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور اعتماد پر مبنی ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ لوگ بلا خوف و جھجک اپنی شکایات درج کرا سکیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف پولیس نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی بلکہ خواتین کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا، جو ایک منصفانہ اور مہذب معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں خواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرنا صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے۔