تحریر: مرتضیٰ زیب زہری
ایک سرد صبح استنبول کی کسی گلی میں ایک بزرگ خاتون اپنے کوٹ کے اندر ایک ننھے بلی کے بچے کو چھپائے کھڑی تھیں تاکہ اسے برف باری سے بچا سکیں۔
اردگرد کے دکانداروں نے خاموشی سے دودھ کے پیالے رکھ دیے اور مقامی انتظامیہ کو مطلع کر دیا۔
ترکی سے لے کر کینیڈا اور جاپان تک یہ مناظر کسی فلم کا حصہ نہیں بلکہ ان معاشروں کی پہچان ہیں جہاں جانوروں کو ‘آوارہ’ نہیں بلکہ ‘شہری’ تسلیم کیا جاتا ہے۔
دنیا کے ان ترقی یافتہ خطوں میں سڑکوں پر موجود کتوں یا بلیوں کا حل انہیں مارنا نہیں بلکہ ایک خاص سائنسی طریقہ کار ہے جسے ‘TNVR’ کہا جاتا ہے۔
اس کا مطلب ہے جانور کو پکڑنا اس کی نس بندی کرنا اسے ویکسین لگانا اور پھر واپس وہیں چھوڑ دینا۔
اس طریقے سے نہ تو بیماریاں پھیلتی ہیں اور نہ
ہی جانوروں کی آبادی میں بے ہنگم اضافہ ہوتا ہے۔
اب یہی عالمی معیار پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک ایسی خاموش تبدیلی نے جنم لیا ہے جس کی بازگشت اب پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایک ایسی پالیسی کی منظوری دی ہے جس نے دہائیوں سے جاری بے دردی کا خاتمہ کر دیا ہے۔
نئی سرکاری ہدایات کے مطابق اب کوئٹہ میں کسی بھی آوارہ جانور کو مارا نہیں جائے گا بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت ان کا تحفظ اور علاج یقینی بنایا جائے گا۔
حکومتِ بلوچستان نے کوئٹہ میونسپل انتظامیہ کو واضح کیا ہے کہ زہریلی گولیوں یا گولی مارنے جیسے اقدامات کی اب کوئی جگہ نہیں۔
اس کے بجائے ‘پناہ کوئٹہ’ جیسے اداروں کے اشتراک سے جانوروں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ آوارہ جانوروں کے مسئلے کا حل قتل نہیں بلکہ جدید اور انسانی طریقہ کار ہے۔
ان کے بقول بلوچستان اب صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جانوروں کے لیے بھی ایک محفوظ صوبہ بننے جا رہا ہے۔
ماہرینِ سماجیات اسے محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑی نظریاتی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی معاشرے کے اخلاقی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بے زبان جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
دنیا بھر میں جانوروں کے حقوق کو بنیادی انسانی ذمہ داریوں سے جوڑا جاتا ہے جس میں زندگی کا حق تشدد سے تحفظ اور علاج کی سہولت شامل ہے۔
بلوچستان کی یہ نئی پالیسی اسی عالمی وژن کا عکس سمجھا جا رہا ہے۔