ویب رپورٹ: بلوچستان 24
صوبہ بلوچستان کی سب سے قدیم اور بڑی مادرِ علمی، یونیورسٹی آف بلوچستان ان دنوں داخلوں میں مبینہ کمی اور انتظامی تبدیلیوں کے باعث بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار اور وضاحت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ادارے کو جہاں ایک طرف طلبہ کے رجحانات میں تبدیلی کا سامنا ہے، وہاں اسے اپنے تعلیمی ڈھانچے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت بھی پیش آ رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یونیورسٹی میں اس وقت زیرِ تعلیم طلبہ کی کل تعداد 8,457 ہے۔
اگر گزشتہ سال یعنی فال 2024 کے داخلوں پر نظر ڈالی جائے تو مجموعی طور پر 2,038 طلبہ نے داخلہ لیا تھا، جن میں طالبات کی تعداد 436 رہی۔ رواں سیشن (فال 2025) میں اب تک تقریباً 1,108 طلبہ اپنی فیسیں جمع کروا کر داخلہ کنفرم کر چکے ہیں، تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داخلوں کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور یہ تاثر قبل از وقت ہے کہ طلبہ کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔
یونیورسٹی حکام کا مؤقف ہے کہ فارمیسی، ڈی پی ٹی اور کمپیوٹر سائنس جیسے بڑے شعبہ جات سمیت نو مختلف محکموں میں داخلوں کا عمل ابھی جاری ہے۔
اس کے علاوہ ایل ایل بی اور اپریل میں ہونے والے ‘برجنگ ایڈمیشنز’ کے اعلانات ہونا باقی ہیں۔ انتظامیہ کو توقع ہے کہ مارچ 2025 تک داخلوں کی مجموعی تعداد اپنی روایتی سطح یعنی دو ہزار سے زائد تک پہنچ جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیورسٹی نے اپنی حالیہ اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں کئی اہم شعبہ جات کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت رینیوایبل انرجی کو فزکس، جیو فزکس کو جیولوجی اور اینتھروپالوجی کو سوشیالوجی کے شعبے میں شامل کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ اس اقدام کو ‘وسائل کے ضیاع’ کو روکنے اور طلبہ کو ان پروگرامز کی طرف راغب کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہے جن کی مارکیٹ میں مانگ زیادہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یونیورسٹی میں داخلوں کی شرح متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ صوبے کے کالجز میں بی ایس پروگرامز کا آغاز ہے۔
کالجوں میں فیسیں کم ہیں لیکن وہاں فیکلٹی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔
اسی صورتحال کے پیشِ نظر گورنر بلوچستان نے سیکرٹری کالجز کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کالجوں کو بی ایس پروگرامز کی اجازت دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی ہدایت کی گئی ہے۔