والدین پروپیگنڈے میں نہ آئے،اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.


رپورٹ: عبدالکریم
رواں  ماہ کے تیس  تاریخ  سے ملک بھر میں  انسداد پولیو مہم   کا آغاز ہورہا ہے۔ممبر بلوچستان اسمبلی  نصراللہ خان زیرے نے اپنی رہائش  گاہ پر  بچوں کو  پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر  انسداد پولیومہم  کا آغاز کردیا۔ اس موقع پر  نصراللہ خان زیرے نے بلوچستان24سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ  دنیا نے  پولیو  جیسے موذی مرض کے خلاف ایک طویل  جنگ  لڑی  اور  وہ  بالاخر   اس مرض کو اپنے ممالک سے  ختم کرنے میں کامیاب  ہوئے۔ لیکن بدقسمتی کہے  یا  کوتاہی  پاکستان اور  ہمسایہ برادر ملک  افغانستان میں اب معصوم بچے  اس  موذی مرض  سے متاثر ہوکر  عمر بھر کیلئے  معذور ہوجاتے ہیں۔ ان  معذور بچوں  کا  قصور صرف اتنا ہے  کہ  انہوں  نے ایک  ایسے خاندان میں جنم لیا ہے  جو پولیو کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کے شکار ہوئے ہیں۔
نصراللہ خان زیرے  کے بقول:  دو قطرے  پولیو  کے ہر بار  بچوں تک پہنچانا ہم  سب پر فرض  ہے ۔کیونکہ  یہ  دو قطرے  ہمارے بچوں کا  ہم  پر  قرض ہے۔ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ  ہم اپنا قرض اداء  کرے  تاکہ  کل  کو ہمارے بچے  معذور ہوکر ہم سے یہ  نہ  کہے  کہ  ہم  نے ان  کا حق  اداء نہیں کیا ہے۔
نصراللہ خان  زیرے  نے  والدین  پر  زور دیا  کہ وہ منفی  پروپیگنڈے میں  نہ آئیں ۔ پولیو ورکرز  کیلئے دروازہ  کھولیں  اور ان   کا کھولے  دل  سے  استقبال کرے  اور  اپنے پانچ سال  تک بچوں کو  پولیو سے  بچاو کے قطرے لازمی پلائیں ۔کیونکہ  اس مرض  سے بچنے کا  واحد  راستہ  یہی  ہیں۔
یاد رہے  رواں  سال  میں اب تک پاکستان میں 81 بچے  پولیو کے شکار ہوکر  عمر بھر کیلئے معذور ہوچکے ہیں۔  بلوچستان  میں  معذور ہونے والے بچوں کی تعداد 23خیبرپختواہ میں 22پنجاب 14اور سندھ میں  پولیو سے متاثرہ  بچوں  کی تعداد 22ہے۔ جبکہ  گزشتہ سال  پورے پاکستان  147 بچے  پولیو سے متاثر ہوے تھے۔
صفی اللہ خان اچکزئی  پولیو پروگرام  میں بطور تحصیل کمیونیکشن آفیسر  کام کرتے ہیں ۔ اس موقع پر  ان  کا کہنا تھا  کہ  30نومبر  سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم  میں  بلوچستان بھر میں 25لاکھ  بچوں  کو  پولیو سے بچاو  کے  قطرے  پلانے  کا ہدف مقررہ کیا گیا ہے۔  ان  کی مطابق  مقررہ  ہدف  والدین، علماء کرام، قبائلی عمائدین،  سیاسی  رہنماوں  اور  نوجوانوں کی مدد کی بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

صفی اللہ کے بقول:  ہر ذمہ دار  شہری کا فرض بنتا ہے کہ  وہ  اس قومی اور انسانی کاز میں  پولیو ورکرز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائے تاکہ
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح  ہم بھی اس  مہلک اور موذی  مرض  کے  خلاف متحد ہوکر لڑے  اور  اپنے  بچوں  کو  اس  مرض  سے تحفظ فراہم  کرے  یہ ہمارا   اگلے  آنے والے نسلوں  کیلئے ایک  بیش قیمت تحفہ ہوگا۔
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: