2018 کے عام انتخابات: بلوچستان کے عوامی نمائندے‌ وعدے بھول گئے

رپورٹ: ندیم خان

بلوچستان میں سال 2018کے عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں نے عوام سے اپنے منشور میں کئی وعدے کئے مگر عوام کے مطابق اقتدار میں آکر ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

صوبے میں برسراقتدار مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں میں سے بلوچستان عوامی پارٹی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور جام کمال خان جن کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی ہی سے ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے الیکشن سے قبل اپنے منشور کا اعلان کرتے ہوئے صوبے میں خواتین کو برابری کے حقوق دلانے پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ کئی دیگر وعدے کئے تھے۔

سمیع اللہ کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ کا رہائشی ہے۔’’بلوچستان 24‘‘سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ سریاب روڈ کے علاقے میں گزشتہ پانچ سالوں سے پانی کی قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کو ووٹ دیا تاکہ وہ ان کے علاقے میں قلت آب کے مسئلے کو حل کرے۔

سمیع اللہ کے مطابق’’میرے پورے خاندان نے بلوچستان عوامی پارٹی کو صرف اس لیے ووٹ دیا کہ وہ ہمارے علاقے میں پانی کی قلت اور سیوریج کے مسئلے کو حل کرینگے مگر ابھی تک ہمارے مسئلے حل نہیں ہوئے، سیاست دان صرف وعدے ہی کرتے ہیں کام نہیں کرتے‘‘۔

موجودہ حکومت نے عوام سے ایک اور وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر خواتین کو برابری کے حقوق دیں گے مگر ایسا بھی ممکن نہیں ہوا خود بلوچستان اسمبلی میں بھی خواتین کو ان کا پورا حق نہیں مل رہا اور صوبائی کابینہ میں صرف ایک ہی خاتون کو شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں خواتین کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ ہے خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ خواتین کو انکی عددی اکثریت کے مطابق ہر شعبہ میں پچاس فیصد نمائندگی ملنی چاہیے۔

سا ئمہ جاوید خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ’’رابطہ‘‘ کی رکن ہیں۔ انہوں نے بلوچستان 24سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں خواتین کو تمام شعبوں میں برابری کے حقوق کی فراہمی کے لیے انکا ادارہ کوشاں ہے۔ بلوچستان اسمبلی اور کابینہ میں خواتین کو انکا پورا حق نہیں مل رہا ہے جس کا حکومت نے وعدہ بھی کیا تھا۔

سا ئمہ جاوید کے مطابق ’’بلوچستان اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستیں بڑھا کر 33 فیصد کرنی چاہئے، کابینہ میں خواتین کا حصہ زیادہ ہونا چاہئے اور حکومت کو خواتین کے لئے ایسی پالیسی مرتب کرنی چائیے جس سے خواتین گھر میں بیٹھ کر اپنا روزگار چلا سکیں۔

بے روزگاری بلوچستان کے عوام کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کوئٹہ کے رہائشی نعمت اللہ بی اے پاس ہے۔ انہوں نے تین مرتبہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں ملازمت کے لیے د رخواستیں دی ہیں مگر کئی سے مثبت رد عمل نہیں آیا۔

نعمت اللہ کے مطابق’’سرکاری نوکریوں پر سفارش کی بنیاد پر تقرریاں ہوتی ہیں۔ بلوچستان کی موجودہ حکومت نے بھی میرٹ پر تعیناتیوں کا اعلان کیا تھا مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا، میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کریں۔

بلوچستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سید علی شاہ نے سیاسی جماعتوں کے منشور اور وعدوں سے متعلق بلوچستان 24سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سیاسی جماعتوں کی تشکیل ہوتی ہے یا الیکشن قریب آتے ہیں تو تمام سیاسی جماعتیں اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آکر ان سیاسی جماعتوں کو اپنے وعدے یاد نہیں رہتے ۔

سید علی شاہ کے مطابق ’’بلوچستان میں جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو تعلیم کا حال پہلے ہی جیسا ہے،اگر خواتین کے حقوق کی بات کی جائے تو خواتین کو بھی برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں اسی طرح بلوچستان میں گڈ گورننس کا مسئلہ بہت اہم ہے سیاسی بنیادوں پر تقرریاں اور تبادلے کئے جاتے ہیں جس کے باعث تعلیم اور دیگر سرکاری اداروں کو بہتر بنانا مشکل ہے‘‘

بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں واحد خاتون مشیر بشریٰ رند کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت نے بہت کم وقت میں زیادہ ڈلیور کیا ہے۔ بلوچستان 24سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور حکومت میں شام دوسری مخلوط جماعتیں ملکر صوبے کے عوام کے مسائل حل کررہی ہیں۔

بشریٰ رندکے مطابق ’’بلوچستان عوامی پارٹی نے الیکشن سے قبل عوام سے جو وعدے کئے ان کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سرکاری اداروں میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جس کی مثال سابق حکومتوں میں نہیں ملتی ہے‘‘

بشری رند نے مزید کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی خواتین کو ان کے حقوق کی فراہمی کے لیے اسمبلی میں مثبت قانون سازی کرنے کے لیے کوشاں ہے ہماری حکومت خواتین کو ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے برابر لانے کی پالیسی بنارہی ہے جس سے مستقبل میں خواتین کو فائدہ ہوگا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ الیکشن سے پہلے سیاسی جماعتوں کی جانب سے کئے جانے والے وعدے صرف ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ہوتے ہیں بلوچستان کے مسائل کا حل بلوچستان کے لوگوں کو سیاسی معاشی اور آئینی اختیار دینا ہے۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں