کوئٹہ: ٹرانسپورٹز کا احتجاج دسوں روز بھی جاری

0

آل کوئٹہ ٹوتفتان ،دالبندین ،ماشکیل سیندک نوشکی بس ٹرانسپورٹ، آل رخشان بیلٹ آل کوٹہ مکران بس یونین، بلوچستان ٹرانسپورٹرز الائنس کی جانب سے دسوے روز میں داخل جاری پر امن احتجاج کو متعلقہ حکام کی عدم توجہ کی بناء پر گزشتہ چار روز سے اپنے احتجاج کو دوسرے فیز میں داخل کرکے اپنے گاڑیوں کو کوئٹہ کی مین شارع سریاب روڈ بی بی زیارت کے مقام پر احتجاجی کیمپ قائم کرکے کھڑی کی ہوئ ہےآج آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز الائنس میں شامل ٹرانسپورٹرز نمائندوں کے ہنگامی احتجاجی اجلاس میں فیصلہ کیا جاۓ گیا کہ حکمران خواب غفلت میں ہے ٹرانسپورٹرز کی شنوائی کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,746

ٹرانسپورٹرز مجبورا پھراپنی احتجاج کے تیسرے مرحلہ میں مکمل پہیہ جام یعنی نیشنل ہائی ویز کوبلاک کی طرف جائینگےجبکہ تفتان روٹ رخشان بیلٹ کےساتھ آل کویٹہ مکران ٹرانسپورٹ شانہ بہ شانہ شریک ہیں جبکہ کراچی روٹ کے تمام ٹرانسپورٹرز نمائندگان، پاکستان مزدا ٹرک یونین ،بلوچستان گڈزایسو ایشن، سپریم کونسل آف پاکستان،آل بلوچستان منی بس یونین ،بی این پی اورجمعیت کے دوستوں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین تاجر برادری زمیندار ایکشن کمیٹی نمائندگان اور قبائلی رہنماؤں نے احتجاجی کیمپ کادورہ اوربراۓ راست رابطہ کرکے جاری احتجاج میں شامل ہونےکی حامی بھرلی احتجاجی اجتماع سے آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز الائنس کے نمائندگان میرسعیداحمد لہڑی محمود خان بادینی حاجی ملک شاہ جمالدینی حاجی عبد المالک محمد حسنی علی نواز لہڑی حاجی اللہ بخش باباجان شاہوانی،میرناصرشاہوانی محمداکبرلہڑی اور دیگر ٹرانسپورٹرزنمائندگان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام حمایت کرنےوالےتمام روٹس نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہم آل تفتان رخشاں آل کوئٹہ مکران بولان نصیر آباد کے تمام ٹرانسپورٹرز کےاجتماعی مطالبات کےحق میں غیرمعینہ مدت کیلۓ پہیہ جام ہڑتال مجبوراََ اس بنا پر کررہیں ہے کہ نیشنل ہائی ویز پر امن امان قائم رکھنے کیلئے حکومت بلوچستان اور متعلقہ حکام کی جانب سےروٹس کے ٹرانسپورٹ کےخلاف یکطرفہ اورسخت ایس او پیز جاری اور لاگو کرنےکی کوشش کی گئی ہیں جن پر عمل درآمد کرنا مشکل اور باعث پریشانی ہیں جبکہ تفتان شاہراہ جو انٹر نیشنل شاہراں ایران بارڈر کیلۓ گزشتہ پچاس ساٹھ سالوں سےہماری ٹرانسپورٹ چل رہی ہیں اسکا دارومدار ایران سمیت دیگر ممالک پرجانے اور وہاں سے آنے والے سیاح جو قانونی دستاویزات پاسپورٹ ویزا رکھنے والے مسافروں کی ٹرانسپورٹیشن پر منحصر تھا اور ہیں اس طرح یک طرفہ بنائےجانے والے ایس او پیز تو پابند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاسپورٹ ویزہ پرجانےوالے مسافروں کو اپنے کوچز میں سوار نہ کریں حالانکہ اس روٹ کے اکثریتی سواری اور روزگار و کاروبارکااہم زریعہ معاش انہیں مسافروں کی بدولت ہے جہاں تک سیکورٹی کا مسلئہ ہے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور ٹرانسپورٹ کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے ایس او پیز بنائیں جوسب کو قابل قبول ہو اس سارے معاملے میں ہم بحثیت شہری ٹرانسپورٹرز صرف تعاون کے مکلف ہیں اپنی بساط کے مطابق جوہم عرصہ دراز سے کرتےچلے آرہےہیں ہماری تجویزہیں امن امان قائم کرنےکےبناپرءتمام نیشنل ہائی ویز پر تمام متعلقہ حکام کی پیٹرولنگ موبائل گشت بڑھایاجاۓ ضرورت پڑھنے پر ہرایک مسافر بس کواسکےدورانیہ سفر میں صرف ایک بار چیکنک کےلئے کھڑاکیاجاۓ اور اسی طرح تفتان پنجگورسےآتےہوۓکوچز کواینٹی سمنگلنگ کےنام پرجوکہ پرچون ایشیاء خوردونوش جیسے سامان ہوتے ہیں ان کواینٹی سمنگلنگ کےنام پر صرف ایک بار چیکنگ کیلئے روکھے خطرناک مواد کی اینٹی سمنگلنگ بارڈر زیرو پوائنٹس پر کریں لیکن اس کےبجاۓہمارے نیشنل ہائی ویز تفتان ،تربت،کراچی،جیکب آباد روٹس پر درجنوں اینٹی سمنگلنگ کی چیک پوسٹس بناۓگۓ ہیں یہ ہم واضع کرچکےہیں کہ ٹرانسپورٹرز کااختلاف بار بار چیکنگ کے طریقہ کار سے متعلق ضرورہیں اینٹی سمنگلنگ کے خلاف نہیں ہیں ہر ادارہ اپنا کام کریں مسائل بڑھنے کے بجائے کم ہونگے ہڑتال تب تک جاری رہی گی جب تک حکمران مطالبات تسلیم نہیں کرتے اب دیکھنا ہے حکمران کب تک یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں* ؟_
جاری کردہ رہنماء
آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز الائنس،محمودخان بادینی مورخہ28,4٫2024
0345832668

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.