افغانستان ،سخت سکیورٹی میں صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ

عبدالکریم۔۔۔۔نامہ نگار

افغانستان میں آج سخت سیکورٹی میں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں 2001میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں چوتھی بار صدارتی انتخابات کا انعقاد ہورہا ہے

جس میں دو بارہ سابق افغان صدر حامدکرزئی اور ایک بار موجودہ افغان صدر اشرف غنی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی،

آج جاری انتخابات میں ماہرین کے مطابق اشرف غنی کا پلڑہ بھاری ہے قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اشرف غنی انتخابات جیت کر مسند صدارت سنھبالیں گے

لیکن دوسری طرف مخالف امیدوار ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ بھی انتخابات میں کامیابی کا دعوے کرچکا ہے

انتخابات میں کامیابی کیلئے مجموعہ ووٹوں میں پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہیں

دوسری صورت میں انتخابات کا دوسرے مرحلے میں داخل ہوں گے اور دوبارہ انتخابات کا انعقاد ہوگا

دوسرے مرحلے میں صرف پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار ہی حصہ لے سکتے ہیں

اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّہ کے علاوہ کل تیرہ امیدوار صدرات کے دوڑ میں شامل ہیں

جن میں حزب اسلامی کے گلبدین حکمتیار، حکم تورسن، لطیف پدرام، فرامز تمنا، نوررحمان لیول،رحمت اللّٰہ نبیل اور دیگر شامل ہیں

تین امیدوار انتخابات سے دستبردار ہوئے جن میں حنیف اتمر، ابراھم الکوزی اور محمدشیدا ابدالی شامل ہیں

حنیف اتمر کے سواء باقی دو امیدواروں نے اشرف غنی کی حمایت کا اعلان کیا تھا،

یاد رہے طالبان کے طرف عوام کو انتخابات میں حصہ نہ لینے کیلئے بیان سامنے آیا ہے جس میں عوام سے کہا گیا ہے وہ اپنے حفاظت چاہتے ہیں تو پولنگ اسٹیشنوں سے دور رہیں

دوسری جانب بلوچستان سے متصل افغانستان کی سرحدی گیٹ چمن بارڈر بھی دو روز کیلئے بند کردی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں