پبلک مقامات پر خواتین کے لیے بریسٹ فیڈنگ کارنرز کے قیام کا مطالبہ

0

رخسانہ مسرت

اکثر اوقات خواتین صحافی میڈیا ہاوسسز میں جہاں دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان کی شکایات کرتی پائی جاتی ہیں وہیں خواتین صحافیوں (جو مائیں ہیں) کو بچوں کو بریسٹ فیڈنگ کے لئے مناسب سہولیات کا بندوبست موجود نہیں اور نہ ہی جگہ مختص کی جاتی ہے۔
صحافی بچوں، ماؤں اور کمیونٹی پر بریسٹ فیڈنگ کے فوائد کو اہم بتانے کے لیے کام کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ بچوں کو جتنا زیادہ عرصہ بریسٹ فیڈنگ کرائی جاتی ہے، ماؤں اور ان کے بچوں کو اتنے زیادہ صحت کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

لہذا آجکل، زیادہ تر مائیں اپنے بچوں کو اس وقت تک بریسٹ فیڈ کرانا چاہتی ہیں جب تک حالات اجازت دیتے ہیں۔
بریسٹ فیڈنگ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ شاپنگ مالز، کیفے اور تفریحی مراکز سہولیات میں جاتی ہیں یا وہ ملازمت پیشہ ہیں تو دیگر اداروں سمیت میڈیا ہاوسز میں بھی اس کا بندوبست نہیں ہے۔

حالانکہ ان عوامی مقامات پر اکثر اپنے بچے کو براہ راست بریسٹ فیڈ کرانے کی ضرورت ہوتی ہے اور میڈیا انڈسڑی سے وابستہ خواتین سمیت تمام ورکنگ وویمنز اس سہولت کی فراہمی کی خواہاں ہیں۔

پبلک مقامات پر بریسٹ فیڈنگ کے خواتین کے زیادہ تر تجربات منفی ہیں، صحافی جو اس مسئلے کاشکار ہیں یا ان کو سامنا کرنا پڑا انہوں نے کچھ جگہوں پر عملہ کے رویہ اور سہولیات میں بہتری لانے کی ضرورت سے متعلق بتایا ہے کہ کمیونٹی عوامی مقامات پر بریسٹ فیڈنگ کے دوستانہ ہونے سے متعلق جتنی زیادہ معاون ہو گی، اتنا زیادہ مائیں دودھ پلانے کے قابل ہوں گی اور بچے صحت مند ہوں گے۔

2013 میں محکمہ صحت کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد ماؤں نے عوامی جگہوں پر براہ راست بریسٹ فیڈنگ کرائی تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کی ضروریات تئیں مناسب طور پر ردعمل دے سکیں۔

ان ماؤں میں جنہوں نے کبھی عوامی جگہ پر بریسٹ فیڈ نہیں کیا، نصف نے ایسا کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
“بریسٹ فیڈنگ دوستانہ احاطے “ایسی جگہ ہے جہاں دودھ پلانے والی مائیں اور ان کے خاندان کسی بھی وقت، کہیں بھی بریسٹ فیڈنگ کرانے کے لئے خوش آمدید محسوس کرتے ہیں اور مدد حاصل کرتے ہیں۔

عملہ کی جانب سے مندرجہ ذیل معاون اقدامات کو اپنانے کی سفارش کی جاتی ہے جیسا کہ “بریسٹ فیڈنگ کے لئے جگہ کا انتخاب کرنے سے متعلق ماں کی آزادی کا احترام کریں۔

ایک دودھ پلانے والی ماں کے کام میں مداخلت نہ کریں، جیسا کہ اسے ڈھانپنے، رک جانے، یا کسی اور جگہ پر چلے جانے کا مت کہیں۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,750

ایک ماں کو ایک مناسب جگہ کی پیشکش کریں جو بریسٹ فیڈ کرنے کے لئے زیادہ رازداری کی خواہشمند ہو، جہاں تک قابل عمل ہو، مثال کے طور علیحدہ سے سیٹ جو داخلی مقام سے زیادہ دور ہو۔

بریسٹ فیڈ کرانے والی ماؤں اور بچوں کی ضورریات تئیں معاون بنیں، مثال کے طور پر، دوسرے کسٹمرز کے سامنے ان کی صورتحال کی وضاحت کریں۔

جبکہ میڈیا انڈسٹری میں ملازمت پیشہ خواتین نے شکوہ کیا کہ “ماؤں کو اپنے بچوں کو ٹوائلٹ میں بریسٹ فیڈ کرانے کا کہنا نامناسب بات ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔

جس سے بچے اور ماں کی صحت کے خدشات بھی لاحق ہوجاتے ہیں۔ صحافی خاتون نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نامور اخبار میں بطور میگزین ایڈیٹر فرائض انجام دے رہیں تھی.

جب وہ ماں بنی تو ادارے نے بجائے بنیادی سہولیات دینے کے ان کو رپورٹنگ میں ٹرانسفر کردیا اور جس وجہ سے کوریج پہ جانا پڑتا تھا.

بطور میگزین ایڈیٹر جو ان کے پاس الگ جگہ تھی وہ بچے کو باآسانی فیڈ کروا سکتی تھیں وہ بھی چھن گئی اور دن بدن پریشان کیا جاتا کہ یہ یہاں سب کے سامنے کیوں نہیں بیٹھتی اور پھر جبری طور پر ان سےا ستعفی لے لیا گیا کہ آفس شہر سے باہر شفٹ ہو گیا ہے اپ بچے کے ساتھ مسائل کا شکار ہیں حالانکہ دیگر رپورٹر گھر سے کام کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صحافی خواتین جو شادی شدہ ہیں ان کو سہولیات دے دی جائیں اور فیڈنگ کارنرز بنا دئیے جائیں تو کارکردگی متاثر نہیں ہو گی اور نہ میڈیا انڈسٹری میں ملازمت پیشہ خواتین کو ملازمت سے ہاتھ دہونے پڑیں گے۔

فیڈینگ کارنرز کے قیام کے حوالے سے جب ایک میڈیا ہاوس کے ڈائریکٹر ہیومن ریسورس سے بات ہوئی تو انہوں نے ادارے اور اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پہ کہا کہ ایسا کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ خواتین اس مسئلے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

خواتین خود ہی مینج کر لیتی ہیں۔ بیشتر خواتین شادی کے بعد ملازمت ہی جاری نہیں رکھ پاتی تو یہ تو بعد کے مسئلے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کی زیادہ تعداد کی ہو تو دفتر میں تو یہ کارنر بنائے جا سکتے ہیں ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.