بلوچستان، پانچ قومی شاہراہیں،موٹر وے پولیس ،ٹراما سینٹر ،تلخ جملوں کا تبادلہ

0

کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر )صوبے کی قومی شاہرائیں کوئٹہ تا کراچی ، کوئٹہ تا ڈیرہ اسماعیل خان کوئٹہ براستہ لورالائی تا ڈیرہ غازی خان اور کوئٹہ براستہ سبی تا جیکب آباد شامل ہیں ۔ پر آئے رو ز سپیڈ اور اوورلوڈنگ کے باعث حادثات رونماہونے سے ہزاروں قیمتی جانیں جن میں معلم ، ڈاکٹر ، انجینئرز ، تاجر اور عام شہری شامل ہیں ابد ی نیند سلادیئے گئے

جس کی ذمہ داری ہائی وے پولیس پر اس لئے عائد ہوتی ہے کہ وہ سپیڈ اور اوورلوڈنگ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے اس کا واحد حل مذکورہ شاہراہوں کا دو رویہ کیا جانا ہے

لہٰذاایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ صوبے کی اہم قومی شاہراہیں جن میں کوئٹہ تا کراچی ، کوئٹہ تا ڈیرہ اسماعیل خان ، کوئٹہ براستہ لورالائی تا ڈیرہ غازیخان اور کوئٹہ براستہ سبی تا جیکب آباد شامل ہیں پر حادثات کی روک تھام کے لئے ہائی وے پولیس کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ سپیڈ اور اوور لوڈنگ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف قانون کے

قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ

مطابق کارروائی عمل میں لائے

چونکہ حادثات کی روک تھام کا واحد مستقل حل مذکورہ شاہراہوں کا دورویہ کیا جانا ہے اس لئے وہ فوری طو رپر شاہراہوں کو دو رویہ کرنے کے سلسلے میں فوری اقدامات اٹھائے تاکہ حادثات کی روک تھام کا مستقل حل ممکن ہو ۔

قرار داد کی موزونیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹروے پر 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حد مقرر کی گئی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے نہیں کیا جارہا قومی شاہراہوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حادثات کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ صوبے کی تمام قومی شاہراہوں کو دو رویہ کیا جائے اگر یہ فوری طو رپر ممکن نہ ہو تو صوبائی حکومت وفاق سے رابطہ کرکے مرحلہ وار ان سڑکوں کو دو رویہ بنانے کے لئے اقدامات کرے ۔بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ کی قرار داد

سید فضل آغا رہنما جمعیت علماء اسلام
بلوچستان میں این ایچ اے تو موجود ہے مگر قومی شاہراؤں پر اس کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ بلوچستان میں ایسی قومی شاہراہیں ہیں جودو ہمسایہ ممالک سے ملک کو ملاتی ہیں فوری طو رپر انہیں دو رویہ کرکے عوام کو سہولت فراہم اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔

جمعیت العلماء اسلام کے عبدالواحد صدیقی نے کہا کہ ایک جانب سڑکیں دو ہماری قومی شاہراہوں پر ٹراما سینٹر نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں زخمی ہونے والوں کو فوری علاج معالجے کی سہولت نہ ملنے سے بھی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں انہوں نے زور دیا کہ فوری طو رپر خانوزئی ہسپتال میں ٹراما سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے ۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران

” یہ قرار داد لائے جانے سے قبل ہی صوبائی حکومت نے قومی شاہراہوں کو دو رویہ تعمیر کرنے کے سلسلے میں اقدامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے سابق دور حکومت میں کوئٹہ ماس ٹرانزٹ ٹرین اور پٹ فیڈر سے کوئٹہ کو پانی کی فراہمی جیسے ناقابل عمل منصوبے شامل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی موجودہ وزیراعلیٰ نے سڑکوں کو دو رویہ تعمیر کرنے کی اہمیت کے پیش نظر اقدامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے تو اب حکومتی اور اپوزیشن ارکان وہاں اپنی تجاویز دیں صوبائی حکومت کی جانب سے جلد عوام کو شاہراہوں کی دو رویہ تعمیر کی خوشخبری دیں گے “

صوبائی وزیر ظہور بلیدی

” بلوچستان کو قومی شاہراہوں کی بڑی ضرورت ہے بدقسمتی سے سابق وفاقی اور صوبائی حکومت نے بلوچستان کے لئے سی پیک میں کچھ حاصل نہیں کیا ہم نے آتے ہی اس سلسلے میں کام شروع کردیا ہے جب کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ بلوچستان کو سی پیک میں روڈ سیکٹر میں کچھ بھی نہیں ملا مکران اورژوب میں پرانے منصوبوں پر نئی تختیاں لگا کر عوام کو یہ تاثردینے کی کوشش کی گئی

صوبائی وزیر اطلاعات ظہور بلیدی

یہ منصوبے سی پیک میں شامل ہیں

”موجودہ صوبائی حکومت نے سی پیک کے حوالے سے جوائنٹ ورکنگ گروپ اور جے سی سی میں بلوچستا ن کے منصوبے شامل کرانے کی کوشش شروع کردی ہے ہم نے صوبے کی جانب سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ ژوب روڈ اور کوئٹہ سوراب روڈ کو فوری طو رپر ڈبل کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان ژوب سڑک کو سی پیک میں شامل اور ایرانی سرحد سے متصل سڑک کو بھی سی پیک میں شامل کیا جائے ژوب ڈی آئی خان روڈ اور ایرانی سرحد سے متصل سڑکوں کی منظوری دے دی گئی جبکہ کوئٹہ سوراب سڑک کے منصوبے کو آئندہ اجلاس میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے “
بی این پی کی شکیلہ نوید دہوار
” درہ بولان میں واقعہ قومی شاہراہ پر ایک گاڑی کی خراب ہونے کی وجہ سے رکنے سے گھنٹوں شاہراہ پر ٹریفک جام ہوجاتی ہے لہذا حکومت اس پر بھی توجہ دے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے

” صوبائی وزراء کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے قرار داد پر بات کرنے کی بجائے وہ بار بار سابق صوبائی حکومت پر بلا جواز تنقید کرتے ہیں اگر ہم نے بولنا شروع کردیا توپھر ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا وہ بتائیں کہ ان کی پارٹی کس نے بنائی کون انہیں اقتدار میں لے کر آیا آزاد سینیٹروں کو کس نے کامیاب کرایا اس موقع پر نصراللہ زیرے اور حکومتی ارکان کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا نصراللہ زیرئے نے تجویز دی کہ آئندہ این ایچ اے اور موٹر وے حکام کوسپیکر چیمبر میں بلایا جائے اورتمام قومی شاہراہو ں کو موٹر وے پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ اوور سپیڈ اور اوور لوڈنگ کے باعث ہونے والے حادثات پر قابو

رکن صوبائی اسمبلی پشتونخواملی عوامی پارٹی نصر اللہ زیرے

پایا جاسکے

سابق صوبائی وزیر سید احسان شاہ نے کہا کہ مجھے بھی ماضی میں سی پیک کے حوالے سے بلوچستان حکومت کی جانب سے ایک اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جہاں چینی حکام نے یہ بات واضح کی کہ وہ ہماری مالی اور تکنیکی حوالے سے مدد کرسکتے ہیں تاہم منصوبوں کا تعین کرنا حکومت پاکستان کاکام ہے۔بعدازاں بلوچستان اسمبلی نے قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.