خضدار ، تعلیم کے چاہنے والوں کی پیاس نہ بجھ سکی

0

رپورٹ ندیم گرگناڑی
طلباء وطالبات کی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے اور ان کے شوق تعلیم کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کوترقی دینے کے رجحان کوعام کرنے کے لئے ہرضلعی ہیڈکوارٹر میں ڈیجیٹل لائبریری کا ہوناانتہائی لازمی ہوتا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بعدخضدارصوبہ بلوچستان کا دوسرابڑاشہرہے اورپاک چائناکوریڈور( سی پیک ) کی اہم گزرگاہ بھی ہے۔

سابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کے خصوصی فنڈ سے خضدارکے لئے ایک ڈیجیٹل پبلک لائبریری کی بلڈنگ منظورہوئی تھی۔

جس پر ایک سال سے کام جاری ہے اوریہاں کے تعلیم سے شغف رکھنے والے طلباء وطالبات انتہائی خوشی محسوس کررہے ہیں کہ ڈیجیٹل پبلک لائبریری کی تکمیل سے ہماری تعلیمی پیاس بجھ جائیگی۔

تاہم ایک سال پوراہونے کے باوجود پبلک لائبریری کی عدم تکمیل علم کے پیاسی دلوں کو سیرآب کرنے سے قاصرنظرآتی ہے۔

خضدار کے طلباء و طالبات میں تعلیم کا رجحان بڑھانے اور ان میں شعور کو مزیدنکھارنے کے لئے ڈیجیٹل پبلک لائبریری کا قیام جلدازجلد پایہ تکمیل تک پہنچانا لازمی امرہے۔

خضدار کے نوجوان جوکہ اپنے والدین کی کم مالی وسائل کی وجہ سے پی سی ایس۔ سی ایس ایس کے امتحانات کی تیاری کے لئے کوئٹہ۔ اسلام آبادلاہور نہیں جاسکتے

جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان دل برداشتہ ہوکر دوسرا راستہ اختیار کرکے ملک کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔

بلوچستان کا اہم اور دوسرا بڑا شہر خضدار میں اہم تعلیمی ادارے بلوچستان یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈٹیکنالوجی۔ جھالاوان میڈیکل کالج۔ سکندرشہیدیونیورسٹی۔بلوچستان ریذیڈنشل کالج۔ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج۔ گورنمنٹ گرلزڈگری کالج۔ گورنمنٹ گرلزایلیمنٹری کالج۔ بھادرخان وومن یونیورسٹی کے علاوہ تحصیل وڈھ میں میرین یونیورسٹی کیمپس۔گورنمنٹ انٹرکالج وڈھ۔ سکینڈری گرلزاسکول وڈھ۔ تحصیل زہری میں گورنمنٹ انٹرکالج۔ تحصیل نال میں گورنمنٹ انٹرکالج موجود ہے

یعنی کوئٹہ کے بعد خضدار وہ ضلع ہے جہان پر سب سے زیادہ تعلیمی ادارے ہیں اور اس کیلئے ڈیجیٹل پبلک لائبریری کا نہ ہونا انتہائی بدقسمتی ہے۔

خضدار کی بڑی بڑی شخصیات بڑے بڑے آفیسران اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے بچوں کو ملکی اورغیرملکی یونیورسٹی اورکالجوں تعلیم کے حصول کیلئے بھیجتے ہیں

غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرکے مایوسی کا شکاربن کر نفسیاتی مریض بن کر اپنے والدین کے لئے مزید پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔

خضدار کے سیاسی سماجی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان، گورنربلوچستان، ایم این اے سرداراخترجان مینگل، ایم پی اے خضدار میریونس عزیز زہری،میراکبرمینگل سے اپیل کی ہیے
کہ لائبریری کے کام کا جائزہ لیکر اسے فوری طورپر پایہ تکمیل تک پہنچائیں، تاکہ یہاں کے طلباء وطالبات اپنی قابلیت کا لوہا منواسکیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: