زبانوں پر تالا کیوں ہیں ۔ اپیکا بلوچستان

ایپکا کے۔شاھین تیار رہیں بے حس حکومت کو فکرمند کرنے اپنے وعدے یاد دلانے کے لیے بھر پور احتجاج کیا جائے گا، داد محمد بلوچ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

:بلوچستان 24 ویب ڈیسک

ایپکا۔بلوچستان کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہر بمقام صوباہی اسمبلی بحوالہ۔تحریک بحالی بولان میڈیکل کالج کے ہوا مظایرے سے ڈاکٹر طارق بلوچ خالد بلوچ ڈاکٹر احسان بلوچ عارف ٹائگر عبدالباسط شاہ میر زیب شاھوانی رحمت اللہ زیری اور ایپکا پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد یونس کاکڑ صاحب نے خطاب کیا۔

مظاہرے کی صدرات ایپکا کے صوباہی صدر داد محمد بلوچ نے کی حاجی عبداللہ خان صافی صاحب تحریک بحالی کے چئرمین نے تمام کارکنان کا شکریہ ادا کرے ہوئے کہا کہ ایپکا کے۔شاھین تیار رہیں بے حس حکومت کو فکرمند کرنے اپنے وعدے یاد دلانے کے لیے بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ محمد یونس کاکڑ نے کہا کہ ایپکا ملک بھر میں احتجاج کرنے صلاحیت صلاحیت رکھتی ہے ۔

ہمیں مجبور نہ کیا جائے بولان میڈیکل کالج کو معاہدے کے تحت بحال کیا جائے ڈاکٹر طارق بلوچ احسان بلوچ اور خالد بلوچ نے کہا کہ طلباء تحریک کا حصہ ہیں کالج بحال کیے بغیر کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گے میر زیب شاھوانی نے وائس چانسلر کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے ایک۔نااہل۔وائس چانسلر نے پورے صوبے کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 2,968

مقررین نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کے ملازمین و طلباء کو دیوار سے لگا رہی ہے اٹھ ماہ۔سے تحمل سے احتجاج کر رہے ہیں اور گزشتہ دس روز سے صوباہی اسمبلی کے سامنے سراپااحتجاج ہیں مگر حکومت بے حسی کی انتہاہ کر رہی میں بجٹ میں فنڈ کے بندر بانٹ نے حکومت کی انکھوں پر پٹیاں باندھی ہوہی ہے انہیں عوام کے مسائل کی کچھ فکر نہیں ایپکابلوچستان کے صدر داد محمد بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو دن کے لیے مکمل تالا بندی کا اعلان کرتا یوں اور اگر مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج کو مذید وسعت دی جائے گئ ۔

اگر نااہل وائس چانسلر کو برطرف کرکے کالج کو بحال نہ کیا گیا حاجی عبداللہ خان صافی نے کہا کہ حکومت نام کی رہے گئ ہے اسمبلی کا کام. اہین سازی کرنا ہے جب کے یہاں اہیں سازی کو مذاق بنا دیا گیا ہے نااہلی کی انتہاہ ہے ایک اہینی۔ترمیم تک لانے کی قابل نہ رہی ہے حکومت۔ حکومت ہوش کے ناخون لے ملازمین و طلباء کی تحریک صوبے بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گئ پھر حکومت کو اپنی کرسی کی فکر لاحق ہو جائے گئ ۔

اب فیصلہ حکومت کو کرنا یے کہ ایک ناایل وائس چانسلر کو۔بچائے یا اپنی کرسی کو۔ مظاہرے سے نشنل پارٹی کے۔رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام میں سے ہوتی تو اٹھ ماہ ملازمین و طلباء کو احتجاج نہ کرنا پڑھتا چونکہ سلیکٹیڈ حکومت یے ان کو طلباء اور ملازمین سے کوہی سروکار نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بولان میڈیکل کالج کو بحال کیا جائے سلیکٹیڈ یی سہی بلوچستان کے ریوایات ہی کا خیال رکھا جائے اپنے کیے گئے معاہدوں پر تو عمل کرے ہم تو زبان پر ہی سب کچھ قربان کرنے والے ہیں اور یہ اپنی تحریر کا لاج نہیں رکھ سکتے کل کو جب کرسی نہیں رہے گئ یہی معاہدے گلے کو توک بن جاینگے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.