بلوچستان کے عوام غیر قانونی سماجی اداروں سے بدظن

0

رپورٹ: جمیل خان

بلوچستان ملک کا پسماندہ صوبہ ہے جہاں کے اکثر علاقوں کا شمار ملک کے غریب ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ منتشر آبادی ہونے کے باعث موجودہ دور میں بھی حکومت بعض علاقوں تک سہولیات دینے سے قاصر ہے ایسے میں صوبے میں کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے عوام کے لیے کسی مسیحا سے کم نہیں ہیں۔

یوں تو صوبے میں سینکڑوں کی تعداد میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں عوام کو سماجی خدمات فراہم کرنے کی دعویدار ہیں مگر ان میں بہت کم ہی اپنے اس دعویٰ پر پورا اترتے ہیں۔

بہرام لہڑی کوئٹہ کے ایک متحرک سماجی کارکن ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں کچھ ایسے غیر سرکاری ادارے ہیں جو حکومت کے پاس رجسٹرڈ تو ہیں مگر وہ سالانہ فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے آگے نہیں جاسکے۔

انکے مطابق یہ مشاہدہ آیا ہے کہ غیر قانونی این جی اوز قدرتی آفات کے دوران ہی متحرک ہوتے ہیں اور اس دوران فنڈز میں خرد برد کرتے ہیں۔ جب بلوچستان کے علاقوں نصیر آباد جعفر آباد میں سیلاب آیا اور اسی طرح 2008ء میں زیارت میں زلزلہ آیا تو ایسے میں راتوں رات کچھ سماجی تنظیمیں بنائی گئی جن کامقصد امدادی فنڈز میں خرد برد کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔

بہرام لہڑی نے بتایا کہ ”ایسے ادارے بہت سے ہیں جو پیسوں کا درست استعمال نہیں کرتے حکومت کو چائیے کہ ایسے این جی اوز کے خلاف کارروائی کرے‘‘

سماجی کارکنوں کا یہ بھی خیال ہے کہ بعض این جی اوز کے پاس لائسنس کی تجدید کی فیس بھی نہیں جس کہ وجہ سے انکا رجسٹریشن منسوخ کیا جاتا ہے۔ ایسے این جی اوز کام تو کرنا چاہتے ہیں مگر وسائل نہ ہونے اور ڈونر نہ ملنے کی وجہ سے انکا کام رک جاتا ہے اس کا نقصان براہ راست عوام کو ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ سال 2017ء میں بھی نیشنل ایکشن پلان کے تحت بلوچستان میں 8سو کے قریب غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی تھی۔

اس سلسلے میں مختلف این جی اوز کا ایک اتحاد ”بلوچستان ڈو یلپمنٹ نیٹ ورک“ کے عہدیدار زاہد مینگل نے ”بلوچستان 24“ کو بتایا کہ غیر قانونی طور پر کام کر نے والے این جی اوز کی وجہ سے فیلڈ میں کام کرنے والے این جی اوز کو نقصان پہنچتا ہے اور انکی وجہ سے عوام کا اعتماد غیر سرکاری اداروں سے اٹھ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں این جی او ز کو مانیٹر کرنے کے لیے محکمہ سماجی بہبود قانون سازی کے ذریعے ایک اتھارٹی بنانے کی کوشش کررہی ہے، ہماری تنظیم اس فیصلہ کو بہتر اقدام سمجھتی ہے۔

ان کے مطابق اس سے جو این جی اوز صرف کاغذوں تک محدوو ہیں انکی جانچ پڑتال ہوگی اور فیلڈ میں صرف وہی این جی اوکام کرسکیں گے جن پر عوام کو اعتماد ہو۔

زاہد مینگل کے مطابق ”سال 2010میں جب بلوچستان کے علاقوں نصیر آباد اور جعفرآباد میں سیلاب آیا تو اس دوران متاثرین کی امداد کے لیے قانونی طور پر کام کرنے والے این جی اوز کے علاوہ غیر معروف اور غیر قانونی این جی اوز بھی منظر عام پر آئے، ان این جی اوز نے عوام کی مدد کے لیے ڈونر سے پیسہ تو لیا مگر اس کے فوائد سیلاب متاثرین تک نہیں پہنچے جس کی وجہ مقامی لوگ غیر سرکاری اداروں سے بدظن ہوئے  “

زاہد مینگل کے مطابق ”ان نام نہاد این جی اوز کی وجہ سے انہیں بھی متاثرین کی امداد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ لوگ تمام غیر سرکاری اداروں کو فراڈ سمجھنے لگے“

زاہد مینگل کی تنظیم کا یہ دعویٰ ہے کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں کل 5ہزار این جی اوز کام رہے تھے جن کی جانچ اور پڑتال کے بعد صرف 10فیصد این جی او زہی مطلوبہ معیار پر پورا اترے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے بعض این جی اوز کے لائسنس بھی منسوخ کیے گئے ہیں۔

 دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ عوام کے ساتھ فراڈ کرنے والے این جی اوز کو بلوچستان میں کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں سیکرٹری سماجی بہبود روف بلوچ نے ”بلوچستان 24“ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا محکمہ اس سلسلے میں کافی متحرک ہو چکا ہے کہ بلوچستان میں غیر قانونی طور پر کا کرنے والے این جی اوز کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں غیر سرکاری اداروں کی رجسٹریشن اور ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کے لیے ابھی تک کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے تاہم موجود حکومت نے اس سلسلے میں اتھارٹی بنانے کے لیے ایک بل صوبائی کابینہ سے منظور کرالی ہے جسے جلد ہی اسمبلی کے فلور پر ٹیبل کیا جائے گا۔

سیکرٹری سماجی بہبود کے بقول ”حکومت چیئرٹی لاء اسمبلی میں پیش کرنے جارہی ہے جس کے تحت این جی اوز کے لیے قوانین میں تبدیلیاں ممکن ہونگیں اسی قانون کے تحت ایک الگ اتھارٹی عمل میں لائی جائے گی جو تمام این جی اوز کی رجسٹریشن، آڈٹ، فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور نگرانی کا کام کرے گی۔

روف بلوچ نے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں 2ہزار این جی اوز کی جانچ پڑتال کی ہے جس میں سے 7سو سے زائد این جی اوز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انکے لائسنس منسوخ کیے  گئے۔

 قبل بلوچستان میں ابھی تک سماجی بہبود آڈیننس 1961ء کے تحت سماجی اداروں کی رجسٹریشن اور دیگر امور کو دیکھا جارہاہے صوبے میں بہتر انداز میں کام کرنے والی این جی اوز کے کنسورشیم کے عہدیدار نئے قانون کی تیاری اور اس پر عمل درآمد کرنے کے حکومتی عمل کے حمایتی نظر آتے ہیں انکے مطابق ایسا کرنے سے نہ صرف غیر قانونی طور پر عوام کے پیسے میں خرد برد کرنے والے این جی اوز کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ عوام کا بھی سماجی اداروں پر دوبارہ اعتماد بحال ہوگا

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.