کوئی ماں اپنے بچے کو ڈاکٹر نہیں بنائیگی ……!

کوئٹہ ( رپورٹ محمد غضنفر )
تمام ڈاکٹرزاور اُن کے خاندان موجودہ صورتحال کے باعث ذہنی تناؤ کا شکار ہیں

ڈاکٹر خلیل ابراہیم کے اغواء کا واقعہ پہلا نہیں ہے اس سے قبل چمن سے ڈاکٹر محمود کو اغواء کیا گیا تھا دوسری واردات پروفیسر ڈاکٹرباری پر ہوئی وہ اپنی حاضر دماغی کے باعث بچ گئے

ایک بار پھر حالت ایسے ہیں جن میں ڈاکٹرز کے لیے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے ہم نے حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹیم دیا تھا تاہم کچھ نہ ہونے کے بعد او پی ڈیز کے بائیکاٹ کی طرف آئے اب 16 روز بعد بھی کو پیشرفت نہیں ہوئی تاحال ہمارا بائیکاٹ جاری ہے

اگر یہی حالات رہے تو سائیڈ علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور حکومت کی جانب سے بنائے گئے تین نئے میڈیکل کالجزکیلئے کنٹریکٹ پر رکھے گئے ڈاکٹرز عدم تحفظ کے باعث خدمات دینے سے انکار کر سکتے ہیں

گذشتہ ادوار میں 33 ڈاکٹرز اغواء18 سے زائد زخمی اور قتل ہوئے جبکہ 90 سے زائد ڈاکٹرز صوبہ یا ملک چھوڑ گئے ہیں، حکومت کی جانب سے رابطہ نہ کرنے پر ڈاکٹرز میں تشویش پائی جاتی ہے

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ہم ان حالات میں ڈیوٹیز نہیں کرسکتے تاہم شعبہ حادثات ایمرجنسی شعبہ قلب ،گائنی میں ایمرجنسی سروسز دی جا رہی ہیں

نجی ہسپتال میں ہڑتال میں نرمی کا آپشن ہم نے سوسائٹی اور کچھ لوگوں کی وجہ سے رکھا ہے کیونکہ پچھلے ادوار میں ہڑتال کے باعث عوام سی ایم ایچ جاتے تھے جس سے چیک پوسٹس پر لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی تھیں

سیکورٹی خدشات کے باعث احتجاج میں ڈاکٹرز یکجا نہیں کر رہے کیونکہ وکلاء کا سانحہ ہمارے سامنے ہے ،کچھ افراد کہتے ہیں ڈاکٹرز احتجاج کیوں کرتے ہیں اگر سیکورٹی ادارے اپنی زمہ داری پوری کرتے تو ہمیں احتجاج کی ضرورت نہ ہوتی اگرڈاکٹرز کی جگہ سول سوسائٹی و دیگر طبقات احتجاج اور ہڑتال کریں تو ڈاکٹرز اپنی ہڑتال ختم کرکے کام شروع کر دیں گے

ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کے چئیرمین ڈاکٹر ظاہر خان کی پریس کانفرنس

اُنہوں نے کہا کہ حکومت مغوی ڈاکٹر کی بازیابی یقینی بنائے اور ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر سیکورٹی پلان ترتیب دیکر ہمیں مطمن کیا جائے کہ آئندہ ایسا واقع نہیں ہو گا

پریس کانفرنس کے دوران مغوی نیورو سرجن ڈاکٹر خلیل ابراہیم کی اہلیہ نے کہا

اگرڈاکٹرز کے ساتھ یہی حالات رہے تو کو ئی ماں اپنے بچے کو ڈاکٹر نہیں بنائے گی میرے شوہر کو اغواء ہوئے 16 رو زگزر گئے مگر افسوس اب تک حکومت نے ہم سے رابطہ نہیں کیاجس سے لگتا ہے کہ حکومت ڈاکٹر کی بازیابی میں سنجیدہ نہیں میرے شوہر نے صوبے کے لیے 25 سال خدمات پیش کی ہیں

مغوی ڈاکٹر کی اہلیہ نے کہا کہ اغواء کاروں کی جانب سے اب تک رابطہ اور کسی کا مطالبہ نہیں کیا گیا اگر وہ رقم کا مطالبہ کرتے بھی ہیں تو میں پیسے نہیں دے سکتی میرے شوہر سرکاری ڈاکٹر ہیں اور نجی طور پر بھی مریضوں کا70 فیصد مفت علاج کرتے ہیں

ہمارا کیا قصور ہے اگر خدانخواستہ میرے شوہر کو کچھ ہوگیا تومیرے بچوں کی تعلیم بھی رک جائے گی کیا میں اپنے بچوں کو ورکشاپ پر بیٹھا دوں ، ہمارا کیا قصور ہے سوائے ڈاکٹرز کے کسی کو درد محسوس نہیں ہورہا میرے شوہر دھماکے میں زخمی افراد کے سر سے چھرئے نکالتے ہیں کئی لوگوں کی جان بچانے کا زریعہ بنتے ہیں لیکن آج اُن کی بازیابی کے لیے سوائے ڈاکٹرز کے کوئی طبقہ آواز نہیں اُٹھا رہا

اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خداراہمارے گھر کے واحد کفیل کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے ۔بعد از پریس کانفرنس ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے سول ہسپتال کے احاطے میں ریلی نکالی گئی

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں