کوئٹہ ….جہاں زندگی روک گئ

۔ دوسری جانب کاروبار بند ہونے کی وجہ سے اکثر کاروبار سے وابستہ لوگوں کے گھروں کے چولے اب بھی ٹھنڈے پڑ چکے ہیں

0

تحریر مدثر محمود
کسی کو پتہ تھا کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب دنیا بھر میں لوگ باہر نکلے سے بھی قاصر ہوں گے
کسی کو کیا پتہ تھا کہ ایک اسی وبا پھیلے گی جو تیزی سے پوری دنیا میں اپنے قدم جما لے گی ۔کچھ ماہ پہلے کی بات ہیں جب ایک اسی خبر سامنے آئی کہ چین کے شہر وہان میں ایک ایسا وائرس آیا ہیں جس نے پورے شہر کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور بہت سی زندگیاں اپنے ساتھ نگلے گاآستہ آستہ کرتے یہ وائرس 192 سے زائد ممالک میں پھیل گیا ۔ایک رپوٹ کہ مطابق پوری دنیا کے 4 لاکھ سے ذئدافراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں ۔
پاکستان میں بھی ایک ہزار سے زئدا کسیز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوچکی ہے پاکستان میں کوروناوائرس سے متاثر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ کے بعد چاروں صوبوں میں لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا اور ملک بھر میں فوج تعینات کی گئی ہیں ۔
بلوچستان کے دارحکومت کوئٹہ شہر میں بھی 21 دنوں سے لاک ڈاون کا تسلسل جاری ہیں جس کہ بعد شہر نے ایک الگ شکل اختیار کرلی جہاں تمام کاروبرای مراکز بند ہونے کے بعد شہر کی رونق ہی جیسے بدل گئی ہیں ۔ کوئٹہ جس کا پرانا نام شالکوٹ اور یہ شہر پاکستان کے دس بڑے شہروں میں بھی شمار ہے سن 1935 کے زلزے میں تباہ ہونے کہ بعد انگریز حکمرانوں نے اسے
سے دوبارہ تعمیر کیا اور مکانات کی تعمیر کیلئے پہلی بار بلڈنگ کوڈ متعارف کرانے اور زلزلہ پروف مکانات بنائے گئے جو لکڑی اور لوہے کی چادروں سے بنے ہوتے تھے اس تعمیر کا عکسی اب بھی ریلوے کالونی اور کینٹ کے علاقوں میں دیکھا جاسکتا یے بعد میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہاں بھی دوبارہ فلیٹ بنے شروع ہوئے ۔2017 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی کل آبادی کی تعداد 4,678,932 بتائی گئی اور یہ پاکستان کا سطع سمندر سے بلندی والا شہر ہے کسی زمانے میں اسے فروٹ گارڈن آف پاکستان کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کاریزات کی جگہ ٹیوب ویل کے زریعے بے دریخ پانی نکالنے سے زمین بنجر ہوتی گئی صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا زریعہ معاش سرکاری ملازمتوں اورچھوٹے کاروبار سے وابستہ ہے.
کورونا وائرس کی گردش کے بعد کاروبارِ زندگی منجمد ہے اور حالات کچھ اس طرح بدلے ہیں کہ کوئٹہ شہر مکمل طور پر ویران ہوگیا سنسان گلیاں اورمارکیٹ بند ہیں۔جہاں اکثر لوگوں کے گھر کے چولے کاروبار سے وابستہ ہیں صوبہ میں لاک ڈاون کے بعد اب کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنے پڑ رہاہیں یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم  عمران خان نے معاشی پیکچ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بلوچستان کے وزیر خزانہ نے بھی ماہانہ دو ارب چالیس کروڑ ماہانہ دھاڑی دار طنقے کو ریلیف دینے کا اعلان کیا یے ماضی کے تجربے کوسامنے کو رکھا جائے تو اس خطیر رقم کے کرپشن کے نزرکو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا
۔ دوسری جانب کاروبار بند ہونے کی وجہ سے اکثر کاروبار سے وابستہ لوگوں کے گھروں کے چولے اب بھی ٹھنڈے پڑ چکے ہیں میری مراد چھوٹا کاروبار کرنے والے افراد ہیں
جن کا کوئی پرسان حال نہیں ۔تاریخ میں پہلی بار صوبہ کے تعیلمی ادارے آسولیشن وارڈ میں تبدیل کرنے کے اقدمات ہوئے بلوچستان کی بدقسمتی رہی یے کہ جب بھی مشکل وقت آیا وسائل موجود نہیں ہوتے

آخر کب تک بلوچستان جیسے ملک کے بڑے حصے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بد قسمتی سے ہم ایک ایسے صوبہ اور ایک اسیے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں وسائل کو بہتر انداز میں خرچ کرنے کی جامع حکمت عملی نظر ہی نہیں آتی یہاں سیاستدانوں کی آپس میں جنگ ہی ختم نہیں ہوتی وہ ملک اور وہ صوبہ کیسے آگے جائے گا وفاقی حکومت کی عدم توجہ نے مسائل کو زیادہ کیا سردی جے موسم میں گیس پریشر میں کمی اور گرمیوں میں بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف.
صوبائی اسبملی کے اراکین احتجاج کررہیں ہوتے تو کبھی انجینئر اور ڈاکٹر حضرات تو کبھی طلبا اپنے حق کے لیے روڈ پر اپنی مستقبل کی تلاش میں بیٹھے نظر آتے ہیں تو کبھی صوبہ کے سب سے بڑی یونیورسٹی میں سکینڈلز منظر عام پر آتا ہے ۔اور اب بات کرتے ہیں آسمانی آفت یعنی کوروناوائرس کی دل کی تسلی کیلئے ایک خوبصورت نعرہ ایجاد کرلیا گیا یے کہ کورونا سے ڈرنا نہیں بلکہ لڑنا یے لیکن وسائل کی عدم دستیابی کا کیا کیا جائے لوگ ریے اسکی تلقین کی جاتی یے لیک. بلاوجہ گھروں سے نکلنا تو لوگوں کا مزاج بن چکا یے آگاہی مہم تو بھر بھر چلئ جاتی ہیں۔مگر افسوس کے کچھ لوگ اس بات کو سنجیدہ سمجھتے ہی نہیں ہیں جہاں عوام اور حکومت ایسی وہ ملک اور صوبہ کھبی آگے نہیں جاسکتا ہیں.

“عدل کا قیام اسی معاشرے میں ممکن ہو سکتا ہے جس کے افراد قدرتی صلاحتیوں کے مطابق اپنے اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں”۔ ۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: