تحریر: مرتضیٰ زیب زہری
پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں سنیچر کی صبح اس وقت ایک بار پھر جانی و مالی نقصان کی ہولناک اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں جب دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے طول و عرض میں مربوط حملوں اور شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
کالعدم عسکریت پسند تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنے ’آپریشن ہیروف‘ کے دوسرے مرحلے کا نام دیا ہے، جس میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 10 اضلاع میں بیک وقت حملے کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
جس کے بعد صوبائی حکومت نے کوئٹہ سمیت تمام متاثرہ اضلاع میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں میڈیا کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو ناکام بناتے ہوئے اب تک 37 شدت پسندوں مارے گئے ہیں تاہم اس دوران وطن کا دفاع کرتے ہوئے 10 سکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
کوئٹہ کے مقامی صحافی کے مطابق شہر کی فضا صبح چھ بجے کے قریب اس وقت زوردار دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھی جب شدت پسندوں نے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
خاص طور پر کوئٹہ کے حساس ترین علاقے ریڈ زون کے قریب ہونے والے دھماکوں نے پوری عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا جس کے بعد سول سیکریٹریٹ عدالتوں اور تمام سرکاری دفاتر کو فوری طور پر بند کر کے ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے بلوچستان 24 کو بتایا کہ سریاب روڈ پر ایک پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو اہلکار مارے گئے، جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ سڑک پر گہرا گڑھا پڑ گیا اور قریبی ہوٹلوں اور دکانوں میں موجود لوگ اپنا سامان چھوڑ کر جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگے۔
صوبے کے دیگر حصوں سے آنے والی اطلاعات مزید تشویشناک ہیں نوشکی میں ایف سی ہیڈ کوارٹر اور سینٹرل جیل کے قریب شدید فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
جبکہ مستونگ میں جیل پر حملے کے بعد متعدد قیدیوں کے فرار ہونے کی اطلاعات نے سکیورٹی کے حوالے سے بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں درجنوں مسلح افراد کے شہر میں داخل ہونے اور پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ مچھ اور پسنی جیسے علاقوں میں انتظامیہ نے مساجد سے اعلانات کروا کر لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی تاکید کی ہے۔
ریلوے حکام نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ سے اندرون ملک آنے اور جانے والی تمام ٹرینیں معطل کر دی ہیں، اور پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد کے مقام پر روک لیا گیا ہے تاکہ مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شورش کا یہ حالیہ گراف ماضی کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہلک نظر آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم عسکریت پسند تنظیم اب گوریلا جنگ کے بجائے مربوط اور بہ یک وقت کئی مقامات پر حملوں کی صلاحیت ظاہر کر رہی ہے۔
ماضی میں بلوچستان کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ‘آپریشن ہیروف’ جیسے ناموں کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک سوچی سمجھی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا ہے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ محض فوجی آپریشنز سے اس دیرینہ مسئلے کا حل ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سیاسی اور معاشی جڑوں تک پہنچنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان حملوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 88 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی
فی الحال کوئٹہ سمیت صوبے کے کئی حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے اور فضا میں ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پروازیں جاری ہیں جبکہ شہری اس کشیدہ صورتحال میں خوف اور بے یقینی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔