سی پیک اور گوادر کو کامیاب کرنا ہے تو سب کو حصہ ڈالنا ہوگا، جام کمال

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ اور پی پی پی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیتے ہوئے مذکورہ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم، پی پی پی اتھارٹی، سابقہ پی پی پی ایکٹ کی نئے مجوزہ ایکٹ میں تبدیلی، نئے فریم ورک کی منظوری اور مجوزہ پی پی پی ایکٹ کو بل کی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات،حافظ عبدالباسط،سیکریٹری خزانہ پسند خان بلیدی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو متعلقہ حکام کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم کے تحت صوبے میں تمام شعبہ جات میں پی پی پی ایکٹ لاگو ہو سکے گا۔جس کے تحت100 ملین روپے سے زائد کے منصوبے پی پی پی ایکٹ کے تحت پراسیس ہو نگے۔جبکہ 100 سے 500 ملین روپے کے منصوبے منظوری کیلئے کابینہ میں پیش کیے جائیں گے اور حکومت بلوچستان کے معدنی تلاش اور ترقی کے منصوبے نئے مجوزہ ایکٹ سے مستثنیٰ ہوں گے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں آئندہ مالی سال 2021- 22 میں محکمہ پی ایچ ای اور محکمہ آبپاشی کی مجوزہ ترقیاتی اسکیمات اور انکے کانسیپٹ پیپرز کی تیاری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات حافظ عبدالباسط، سیکرٹری خزانہ پسند خان بلیدی،سیکریٹری پی ایچ ای صالح محمد ناصر، سیکریٹری آبپاشی اکبر علی بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو محکمہ پی ایچ اے کی جانب سے آئندہ مالی سال 2021- 22 کی مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز کی تیاری، مجوزہ منصوبوں کی فزیبلٹی سٹڈی، بڑے اور چھوٹے نوعیت کے ترقیاتی اسکیمات جبکہ محکمہ آبپاشی کی جانب سے آئندہ مالی سال 2021- 22 میں تجویز کردہ آبپاشی کے بڑے منصوبوں اور صوبہ بھر میں ڈیموں کی تعمیر کے مجوزہ نئے ترقیاتی منصوبوں اور ان کے کانسیپٹ پیپرز اور پی سی 2 کی تیاری سے متعلق بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے پاکستان میں تعینات چین کے قونصل جنرل مسٹر لی بیجین(LI Bijian) کی قیادت میں چینی سرمایہ کاروں کے وفد نے یہاں وزیراعلیٰ سیکٹریٹ میں ملاقات کی۔ وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی اور سیکرٹری خزانہ پسند خان بلیدی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سرمایہ کاری کے فروغ، سی پیک،زراعت،ماہی گیری،معدنیات،صوبے کی ساحلی پٹی،فوڈ،لائیو سٹاک اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلی سے بات چیت کرتے ہوئے چین کے قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی لازوال ہے۔چین کی جانب سے پاکستان اور خصوصاً بلوچستان میں سرمایہ کاری اس امر کی عکاس ہے کہ دونوں ممالک میں برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی صورت بلوچستان میں عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اس منصوبے کے تحت کچھ منصوبے مکمل ہو گئے ہیں اور دیگر منصوبے بھی اپنی تکمیل کی جانب گامزن ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت، ماہی گیری، معدنیات، ساحل اور فوڈ سمیت دیگر تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ چین کی ایک بہت بڑی سرمایہ کاری بلوچستان میں ہیں اور بلوچستان میں بہتر سہولیات کی فراہمی سے تجارتی سرگرمیاں میں اضافہ ہوگا انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے وزیراعلی نے کہا کہ کوسٹ کی ماسٹر پلاننگ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ اور سیکیورٹی کے خاطر خواہ اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر سی پیک اور گوادر کو کامیاب کرنا ہے تو اس میں ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 2,968
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.