ریاستِ قلات اب پاکستان کا حصہ نہیں: سابقہ حیثیت کے نام پر موجودہ انتظامی فیصلوں پر اعتراض کرنا درست نہیں: بخت محمد کاکڑ

 

 رپورٹ: بلوچستان 24

بلوچستان کے صوبائی وزیر صحت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بخت محمد کاکڑ نے حال ہی میں جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں نئے اضلاع کی تشکیل پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستِ قلات اب پاکستان کا حصہ ہے اور اس کی سابقہ حیثیت کی بنیاد پر موجودہ انتظامی فیصلوں پر اعتراض کرنا درست نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری بنیادی شناخت پاکستان اور پھر بلوچستان ہے اور ہم سب بلوچستان کے رہائشی ہیں جو اپنی صوبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔

بخت محمد کاکڑ نے واضح کیا کہ نئے اضلاع کا قیام مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں جیسے باکڑ اور برشور کو ضلع کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ ڈویژن کو تقسیم کر کے پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کو الگ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 9,052

وزیر صحت نے کہا کہ اس تقسیم سے عوام کو سہولت ملے گی کیونکہ شہری معمولی انتظامی کاموں کے لیے کوئٹہ نہیں آئیں گے اور کوئٹہ شہر پر بڑھتا ہوا آبادی اور ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔

 

چھوٹے اضلاع اور انتظامی یونٹس عوامی مسائل کے حل کو بھی آسان اور مؤثر بنائیں گے۔

انہوں نے سیاسی رکاوٹوں کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ جو گزشتہ 30-40 سال سے اقتدار میں ہیں، عام آدمی کو براہِ راست فائدہ پہنچنے سے روکنا چاہتے ہیں اور اپنے ذاتی سیاسی مفادات اور ساکھ بچانے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

کاکڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کا اتحاد صوبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور حکومت کسی کے جائز تحفظات یا مسائل کو سننے اور حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پرانے اور دقیانوسی طریقے اب نہیں چلیں گے اور دنیا کی ترقی کی رفتار میں بلوچستان کو بھی شامل ہونا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام کے اختتام میں بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ "ہمیں ترقی کرنی ہے اور ان پرانی، دقیانوسی سوچوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.