رپورٹ: مرتضی زیب زہری
بلوچستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کیسکو ایک بار پھر عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، خراب ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت نہ ہونا اور صارفین سے شکایات پر غیر سنجیدہ رویہ، ادارے کی مجموعی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں دن میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، جبکہ خراب ٹرانسفارمرز ہفتوں تک تبدیل نہیں کیے جاتے۔
شہریوں کے مطابق بارہا شکایات کے باوجود کیسکو کے دفاتر سے کوئی واضح جواب نہیں ملتا۔
کیسکو نے واجبات کی وصولی اور نظام کی بہتری کے لیے نجی ٹھیکیداروں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، تاہم عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ یہ ٹھیکیدار مسائل حل کرنے کے بجائے صارفین کو ہراساں کرتے ہیں۔
کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی تقریباً معطل ہو چکی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی معمول بن چکی ہے۔
بلوچستان میں یہ تاثر بھی زور پکڑتا جا رہا ہے کہ کیسکو ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو نہ صوبائی حکومت کے سامنے جواب دہ ہے اور نہ ہی عوام کے سامنے۔
جب ان شکایات پر کیسکو کے ترجمان سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی احتجاج کرنا یا خبر لگانا چاہتا ہے تو وہ آزاد ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ بیان عوامی شکایات کی سنگینی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب، بلوچستان میں سولر انرجی کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہزاروں زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، جس سے کیسکو کی آمدنی میں واضح کمی آ رہی ہے۔
شہری صارفین بھی مہنگی بجلی اور غیر یقینی فراہمی سے تنگ آ کر سولر سسٹمز نصب کر رہے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کیسکو کے پاس صرف کم آمدن یا زیادہ لائن لاسز والے صارفین ہی رہ جائیں گے۔
بلوچستان میں بجلی کی ترسیل ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہے، تاہم ناقدین کے مطابق بدانتظامی، کرپشن کے الزامات اور اصلاحات کے فقدان نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب متبادل توانائی ایک عملی حل کے طور پر سامنے آ چکی ہے تو کیا کیسکو اپنے نظام میں اصلاحات کر پائے گا، یا یہ ادارہ آہستہ آہستہ غیر مؤثر ہوتا جائے گا؟
فی الحال، بلوچستان کا عام شہری لوڈشیڈنگ، مہنگے بلوں اور ادارہ جاتی بے حسی کے درمیان پھنسا ہوا ہے اور اس کے لیے واحد حل سولر انرجی بنتا جا رہا ہے۔