منجمد کر دینے والی سردی، برف میں دھنسی زندگی اور بچاؤ کا وہ آپریشن جس نے سب بدل دیا

تحریر: مرتضیٰ زیب زہری

خانوزئی کی وہ رات ایک بھیانک خواب جیسی تھی۔

آسمان سے گرتی برف نے سڑکوں کے نشان مٹا دیے تھے اور حدِ نگاہ محض ایک سفید دھند بن کر رہ گئی تھی۔

برف کے اس طوفان میں پھنسی گاڑیوں کے اندر بیٹھے بچے سردی سے نیلی پڑتی رنگت کے ساتھ سسک رہے تھے اور خواتین کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے۔

کان مہترزئی اور زیارت کے پہاڑی علاقوں میں بھی یہی صورتحال تھی۔

اچانک آنے والی اس آفت نے زندگی کو منجمد کر دیا تھا۔

ایسے میں خانوزئی میں پھنسے ایک مسافر کی آنکھوں میں اس وقت چمک آئی جب اسے دور سے ایک پیلی روشنی نظر آئی۔

"ہمیں لگا شاید ہم صبح کا سورج نہیں دیکھ پائیں گے لیکن پی ڈی ایم اے کے اہلکار اس یخ بستہ رات میں فرشتے بن کر پہنچ گئے۔”

اکیس اور بائیس جنوری کے ان دو دنوں میں بلوچستان کے کئی علاقے سفید قید خانے میں بدل چکے تھے۔

مگر جب نظام حرکت میں آتا ہے تو معجزے ہوتے ہیں۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے نے جس طرح اس آفت کا مقابلہ کیا، اس نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔

جیسے ہی محکمہ موسمیات کی پیشگوئی آئی الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ لیکن اصل جنگ اس وقت شروع ہوئی جب مسلم باغ، زیادہ اور کان مہترزئی میں رابطہ منقطع ہوا۔

یہاں یہ محض ایک سرکاری کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک جذباتی مشن تھا جس کی براہِ راست نگرانی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی خود کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان لمحہ بہ لمحہ کنٹرول روم اور فیلڈ ٹیموں سے رابطے میں تھے جس کی وجہ سے فائلوں میں دبنے والے فیصلے چند سیکنڈز میں زمین پر عمل میں آئے۔

یہی وجہ تھی کہ بھاری مشینری اور امدادی ٹیمیں برف کے سینے کو چیرتی ہوئی متاثرین تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔

اس پورے آپریشن کی خاص بات پی ڈی ایم اے کی اعلیٰ قیادت کی فیلڈ میں موجودگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 9,055

ڈائریکٹر جنرل جہانزیب خان جہاں حکمت عملی ترتیب دے رہے تھے وہیں ڈائریکٹرز فیصل طارق، فیصل نسیم پانیزئی اور عطا اللہ مینگل نے بھی اپنا اہم کردار ادا کیا

کوئی زیارت کی چوٹیوں پر برف ہٹوا رہا تھا تو کوئی کان مہترزئی کی بند سڑکوں پر پھنسے لوگوں کو حوصلہ دے رہا تھا۔

فیلڈ میں موجود ایک افسر نے بتایا "جب ڈائریکٹرز خود ساتھ کھڑے ہوں تو ورکرز کی تھکن آدھی رہ جاتی ہے۔

ریسکیو کا عمل صرف سڑک کھولنے تک محدود نہیں تھا۔

نکالے گئے خاندانوں کے لیے ایمرجنسی سینٹرز میں وہ تمام سہولیات فراہم کی گئیں جن کی اس وقت شدید ضرورت تھی۔

گرم کمرے نرم کمبل اور پینے کا گرم پانی وہ چیزیں جو اس منفی 13 ڈگری درجہ حرارت میں کسی نعمت سے کم نہ تھیں۔

زیارت کے ایک متاثرہ شخص نے بلوچستان 24 کو جذباتی ہوتے ہوئے بتایا "ہمیں لگا تھا کہ بس سڑک صاف کر کے چھوڑ دیا جائے گا، لیکن یہاں تو ہمیں مہمانوں کی طرح رکھا گیا۔

بچوں کو گرم دودھ اور چائے ملی، جس نے ہماری جان میں جان ڈال دی۔”

زیارت ٹاپ پر حالات مزید کٹھن تھے۔

جہاں درجہ حرارت انسانی برداشت کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا، وہاں پی ڈی ایم اے کے فیلڈ ورکرز ہاتھ سن ہو جانے کے باوجود مشینوں کے ساتھ نبرد آزما تھے۔

پی ڈی ایم اے کے ان گمنام ہیروز نے اپنی نیند اور سکون کو قربان کر کے درجنوں خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔

ایک فیلڈ ورکر نے مسکراتے ہوئے کہا "ہاں، ہمیں بھی سردی لگتی ہے، جسم کانپتا ہے، لیکن جب کسی روتے ہوئے بچے کے چہرے پر سکون دیکھتے ہیں تو ساری سردی غائب ہو جاتی ہے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کلائمیٹ چینج کے باعث بدلتے موسموں نے چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ ایسے میں پی ڈی ایم اے کا یہ بروقت ردِعمل ثابت کرتا ہے کہ ادارہ اب محض حادثے کے بعد پہنچنے والا محکمہ نہیں رہا بلکہ ایک فعال اور مربوط نظام بن چکا ہے۔

منفی 13 ڈگری میں اکیس اور بائیس جنوری کی یہ کہانی دراصل ایک ٹیم ورک کی کامیابی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد کی کی سیاسی بصیرت ڈائریکٹرز کی جرات مندانہ قیادت اور فیلڈ ورکرز کے غیر متزلزل عزم نے مل کر بلوچستان کو ایک بڑے جانی نقصان سے بچا لیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.